قاسم سید
کیرانہ سے ایم پی اقرا حسن سماجوادی کی بہت ہی مقبول لیڈر اور سوشل میڈیا پر چھائی رہنے والی ممبر پارلیمنٹ ہیں ،وہ دھیمی مسکراث اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ اپنی سلجھی باتوں سے سب کو متاثر کرتی ہیں اور لوک سبھا میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں ان کے خلاف کرنی سینا کے ایک بے ہودہ لیڈر نے بہت ہی نازیبا باتیں کیں ،نکاح کی پیشکش کی اور ایسے جملے اداکیے جن کو دہرایا نہیں جاسکتا ـ اس کے خلاف ایف آئی آر ہوئی مگر کیا سماجوادی پارٹی کے کارکنوں میں اپنی اس لیڈر کے لیے کوئی ابال آیا ؟کسی غصے کا اظہار ہوا ،کوئی احتجاج ہوا ،کسی لیڈر نے کوئی ردعمل ظاہر کیا نہیں ـاس بے ہودہ شچص کی بدتمیزی،جو ایک ایم پی کے خلاف ہوئی وہ کھڑے نظر نہیں آئے ـ
ایک اور معاملہ کی طرف آئیں ایک مولانا ساجد رشیدی ہیں آئے دن ٹی وی ڈبیٹ میں نظر آتے ہیں انہوں نے چناؤ میں بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا تھا ،یہ ان کا سیاسی نظریہ ہے اس سے کچھ لینا دینا نہیں ،وہ سب کا آئینی حق ہے انہوں نے سماجوادی پارٹی کے صدر اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کی پارلیمنٹ کی جامع مسجد میں میٹنگ ہر نکتہ چینی کی اور ڈمپل یادو کے لباس پر اعتراض کرتے ہوئے غیر پارلیمانی لفظ کا استعمال کیا جس کی تائید نہیں کی جاسکتی ـ ان کے بیان پر بی جے پی نے احتجاج کیا اور ڈمپل یادو کی ہمدردی میں کھڑی ہوگئی ـ اس نے اکھلیش کی خاموشی کو بھی نشانہ بنایا یہ حیرت انگیز ہے کہ اسے ڈمپل یادو کی عزت اور احترام کی فکر ستارہی ہے ـ مولانا رشیدی اپنے متنازع بیان کے لیے چرچا میں رہتے ہیں ـ ان پر بھی ایف آئی آر ہوگئی ہے ـ اسی دوران ایک انوکھا واقعی ہوا ـنوئیڈا کے ایک ٹی وی اسٹوڈیو میں مولانا رشیدی کو سماجوادی پارٹی کے یوتھ لیڈر بھاٹی نے اور ان کے ساتھیوں نے تھپڑ مارے یا ان کی پٹائی کی وہ ڈمپل یادو پر مولانا کے نازیبا تبصرے سے ناراض تھے ،اسٹوڈیو میں تھپڑ کانڈ ہوتے رہتے ہیں مگر یہ معاملہ ذرا الگ ہے ہمیں تھپڑ بازی کی انتہا سے اختلاف ہے ناراضگی کے اظہار کے لیے متشددانہ برتاؤ کی حمایت نہیں کی جاسکتی ـکہنا صرف یہ ہے یہاں دو شخصیات ہیں اقراحسن،اور ڈمپل یادو ـدونوں قابل قدر،دونوں کا مضبوط خاندانی پس منظر اور دونوں خواتین مگر اقرا حسن کے لیے وہ غصہ وہ ناراضگی وہ طیش ،وہ غیض وغضب اور ری ایکشن کیوں نظر نہیں آیا جو ڈمپل یادو کے لیے دکھائی دیا اور جس کی گونج مولانا رشیدی کے گال پر سنائی دی ؟سوال ہندو مسلم کا نہیں پارٹی کارکنوں کی ترجیحات کا ہے – حقیقت میں اقرا حسن کی زیادہ توہین و بے عزتی ہوئی لیکن اس کی آنچ کرنی سینا کے لیڈر تک نہیں پہنچ سکی ـمطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ بھی مولانا رشیدی جیسا سلوک ہوتا ـ لیکن اتنی خاموشی بھی اچھی نہیں لگی ـایک مولانا کو پیٹا جائے بھلے وہ غلطی پر ہوں ،ان کو بھری محفل میں رسوا کیا جائے یہ منظر قابل حوصلہ افزا نہیں ہے ،اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی بہر حال دری بچھانے والے کارکن اس فرق کو جتنا جلد سمجھ لیں ان کے حق میں بہتر ہوگا











