(سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے اوک نے عدلیہ کے بدلتے رویے،حکومتوں کے رجحان ،ضمانت کے معاملوں میں حد درجہ تاخیر جن میں عمر خالد وغیرہ کا کیس بھی ہے اس پر بھی گفتگو کی ہے ،اس انٹرویو کی تلخیص قارئین کی خدمت میں پیش ہے،)
نئی دہلی :سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے سرینواس اوک کا ماننا ہے کہ آزادی اظہار اور شخصی آزادی جیسے بنیادی حقوق آج خطرے میں ہیں۔وہ کہتے ہیں، "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اقتدار میں ہو، اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو حکومتوں کا ہمیشہ سے ان بنیادی حقوق پر حملہ کرنے کا رجحان رہا ہے۔”جسٹس ابھے اوک نے تقریباً 22 سال تک جج کے طور پر کام کیا۔ وہ اس سال مئی میں سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ اس سے قبل وہ بمبئی ہائی کورٹ کے جج اور کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔
**عدلیہ کیسے بدلی؟ ججوں کی تقرری کیسے ہوتی ہے؟ آج بنیادی حقوق کیسے خطرے میں ہیں؟ جسٹس اوک نے بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت میں ان سوالوں کا جواب دیا ہے۔جسٹس ابھے اوک سپریم کورٹ کے کئی اہم فیصلوں کا حصہ رہے ہیں، جن میں شہریوں کی شخصی آزادی پر زور دیا گیا تھا۔ ان فیصلوں میں لوگوں کو ضمانت دینے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کے اختیارات کو روکنے جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔جسٹس اوک نے اپنی کئی عوامی تقاریر میں عدلیہ کی آزادی پر زور دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ججوں کو کسی کے ناراض ہونے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔
ایک حالیہ تقریر میں جسٹس ابھے اوک نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں خطرے میں رہتے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آج ان کی نظر میں کون سے حقوق خطرے میں ہیں؟انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں دو حقوق آتے ہیں۔ ایک، آزادی اظہار اور دوسرا، شخصی آزادی، یعنی شخصی آزادی کا حق۔انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اظہار رائے کی آزادی صرف ایگزیکٹو کی وجہ سے خطرے میں ہے، یہ شہریوں کی وجہ سے بھی خطرے میں ہے۔ ہم شہری ایک دوسرے کی آزادی اظہار کا احترام نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کی طرف سے دیئے گئے بنیادی حقوق کا احترام کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ جسٹس ابھے اوک کا کہنا ہے کہ ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے۔آئین میں شخصی آزادی کے حق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف اس لیے کہ آپ پر جرم کا الزام ہے، اس لیے آپ کو گرفتار کرنا ضروری نہیں، ملزم کو گرفتار کیے بغیر بھی تفتیش چل سکتی ہے’۔”ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے اور ان کی ضمانت نہیں ہوتی۔ یہ آرٹیکل 21 کی بھی خلاف ورزی ہے۔”آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت، بھارت میں ہر شخص کو زندگی اور ذاتی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے۔
کورٹ میں ضمانت کب ملتی ہے؟
کئی ایسے کیسز ہیں جن میں لوگ برسوں سے جیل میں ہیں۔ انہیں ضمانت نہیں ملتی، ٹرائل بھی شروع نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، 2020 کے دہلی فسادات کیس میں، بہت سے ملزم تقریباً پانچ سال سے جیل میں ہیں۔ وہ ایسے معاملات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟
جسٹس ابھے اوک نے جواب دیا، "اس معاملے میں قانون بالکل واضح ہے۔ جب عدالت کو لگتا ہے کہ ٹرائل میں بہت زیادہ تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹرائل شروع نہیں ہو رہا ہے، تو عدالت کو ضمانت دینا پڑتی ہے۔ سوائے کچھ خاص معاملات کے جن میں ملزم کی طویل مجرمانہ تاریخ ہے یا ‘ہسٹری شیٹر’ ہے۔”
اس سلسلے میں ہم نے ان سے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا یہ جج پر منحصر ہے کہ وہ کسی کو ضمانت دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا، "میرے خیال میں عدالتی نقطہ نظر ایک ہی ہونا چاہیے۔”ان کے بقول خاص طور پر ایسے کیسز میں ضمانت دی جانی چاہیے جن میں طویل عرصے سے ٹرائل شروع نہیں ہوا ہو۔ کوئی طویل عرصے سے جیل میں ہے بغیر مقدمہ چلائے۔ بی بی سی ہندی کے ان پٹ کے ساتھ









