اردو
हिन्दी
اگست 24, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اظہار رائے کی آزادی جیسے بنیادی حقوق خطرے میں ہیں:سپریم کے سابق جج جسٹس اوک

12 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
اظہار رائے کی آزادی جیسے بنیادی حقوق خطرے میں ہیں:سپریم کے سابق جج جسٹس اوک
50
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

(سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے اوک نے عدلیہ کے بدلتے رویے،حکومتوں کے رجحان ،ضمانت کے معاملوں میں حد درجہ تاخیر جن میں عمر خالد وغیرہ کا کیس بھی ہے اس پر بھی گفتگو کی ہے ،اس انٹرویو کی تلخیص قارئین کی خدمت میں پیش ہے،)


نئی دہلی :سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے سرینواس اوک کا ماننا ہے کہ آزادی اظہار اور شخصی آزادی جیسے بنیادی حقوق آج خطرے میں ہیں۔وہ کہتے ہیں، "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اقتدار میں ہو، اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو حکومتوں کا ہمیشہ سے ان بنیادی حقوق پر حملہ کرنے کا رجحان رہا ہے۔”جسٹس ابھے اوک نے تقریباً 22 سال تک جج کے طور پر کام کیا۔ وہ اس سال مئی میں سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ اس سے قبل وہ بمبئی ہائی کورٹ کے جج اور کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔


**عدلیہ کیسے بدلی؟ ججوں کی تقرری کیسے ہوتی ہے؟ آج بنیادی حقوق کیسے خطرے میں ہیں؟ جسٹس اوک نے بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت میں ان سوالوں کا جواب دیا ہے۔جسٹس ابھے اوک سپریم کورٹ کے کئی اہم فیصلوں کا حصہ رہے ہیں، جن میں شہریوں کی شخصی آزادی پر زور دیا گیا تھا۔ ان فیصلوں میں لوگوں کو ضمانت دینے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کے اختیارات کو روکنے جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔جسٹس اوک نے اپنی کئی عوامی تقاریر میں عدلیہ کی آزادی پر زور دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ججوں کو کسی کے ناراض ہونے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔


ایک حالیہ تقریر میں جسٹس ابھے اوک نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں خطرے میں رہتے ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آج ان کی نظر میں کون سے حقوق خطرے میں ہیں؟انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں دو حقوق آتے ہیں۔ ایک، آزادی اظہار اور دوسرا، شخصی آزادی، یعنی شخصی آزادی کا حق۔انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اظہار رائے کی آزادی صرف ایگزیکٹو کی وجہ سے خطرے میں ہے، یہ شہریوں کی وجہ سے بھی خطرے میں ہے۔ ہم شہری ایک دوسرے کی آزادی اظہار کا احترام نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کی طرف سے دیئے گئے بنیادی حقوق کا احترام کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ جسٹس ابھے اوک کا کہنا ہے کہ ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے۔آئین میں شخصی آزادی کے حق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف اس لیے کہ آپ پر جرم کا الزام ہے، اس لیے آپ کو گرفتار کرنا ضروری نہیں، ملزم کو گرفتار کیے بغیر بھی تفتیش چل سکتی ہے’۔”ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے اور ان کی ضمانت نہیں ہوتی۔ یہ آرٹیکل 21 کی بھی خلاف ورزی ہے۔”آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت، بھارت میں ہر شخص کو زندگی اور ذاتی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے۔


کورٹ میں ضمانت کب ملتی ہے؟
کئی ایسے کیسز ہیں جن میں لوگ برسوں سے جیل میں ہیں۔ انہیں ضمانت نہیں ملتی، ٹرائل بھی شروع نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، 2020 کے دہلی فسادات کیس میں، بہت سے ملزم تقریباً پانچ سال سے جیل میں ہیں۔ وہ ایسے معاملات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟
جسٹس ابھے اوک نے جواب دیا، "اس معاملے میں قانون بالکل واضح ہے۔ جب عدالت کو لگتا ہے کہ ٹرائل میں بہت زیادہ تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹرائل شروع نہیں ہو رہا ہے، تو عدالت کو ضمانت دینا پڑتی ہے۔ سوائے کچھ خاص معاملات کے جن میں ملزم کی طویل مجرمانہ تاریخ ہے یا ‘ہسٹری شیٹر’ ہے۔”


اس سلسلے میں ہم نے ان سے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا یہ جج پر منحصر ہے کہ وہ کسی کو ضمانت دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا، "میرے خیال میں عدالتی نقطہ نظر ایک ہی ہونا چاہیے۔”ان کے بقول خاص طور پر ایسے کیسز میں ضمانت دی جانی چاہیے جن میں طویل عرصے سے ٹرائل شروع نہیں ہوا ہو۔ کوئی طویل عرصے سے جیل میں ہے بغیر مقدمہ چلائے۔ بی بی سی ہندی کے ان پٹ کے ساتھ

ٹیگ: fundamental rightjudgejustice oaksuprem courtthreat

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN