اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

گاندھی – ساورکر ،الگ الگ اور ساتھ ساتھ بھی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
گاندھی – ساورکر ،الگ الگ اور ساتھ ساتھ بھی
33
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: مولانا عبد الحمید نعمانی

گزشتہ کچھ عرصے سے ساورکر کو اوپر اٹھانے اور بچانے کے تناظر میں گاندھی کے نام کا بہ طور حوالہ اور پناہ گاہ کے استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن گاندھی اور ساورکر کو ساتھ ساتھ رکھنا مشکل ہے تاہم پوری طرح الگ الگ بھی نہیں رکھا جا سکتا ہے، نزدیک آ کر بھی فاصلے پر دونوں کھڑے نظر آتے ہیں، گیتا، رامائن ،مہابھارت کا دونوں نام لیتے ہیں مگر تعبیرات و تشریحات میں تضاد و تصادم نظر آتا ہے، جنگ، تشدد، امن و عدم تشدد، ظاہر ہے متضاد ہیں، ساورکر جنگ و تشدد کے لیے راستہ نکال رہے ہیں تو گاندھی، امن و عد م تشدد کے لیے، ایک رامائن ،مہابھارت اور گیتا میں زمین پر جنگ دیکھ رہے ہیں دوسرا لوگوں کے ذہن و دل میں خیر و شر کو لے کر کشمکش سمجھتے ہیں،1926ءمیں جب گاندھی جی گیتا کی تصریحات لکھ رہے تھے تو انہوں نے 4مارچ1926 ءکو لکھا ” میں لندن میں مختلف انقلابیوں سے تبادلہ خیال کیا کرتا تھا، شیام جی کرشن ورما اور ساورکر وغیرہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ آپ کی تشریح گیتا، رامائن کے بیانات کے منافی ہے، اس وقت مجھے ایسا لگتا تھا کہ اگر بیاس جی نے برہم علم کی ہدایت دینے کے لیے ایسی بھیانک جنگ کا منصوبہ نہ بنایا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا، کیوں کہ جب اچھے ذی علم، گہرائی سے غور و فکر کرنے والے لوگ بھی ایسا مطلب نکالتے ہیں تو تو عام آدمی کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ بعد میں جب ساورکر کے بھائی لندن پہنچے تو پتا چلا کہ ان پر بھی گیتا، مہابھارت کا مبنی بر جنگ مفہوم ہی حاوی ہے، 1909 ءمیں جب مدن لال ڈھینگرا نے لندن میں کرزن وائیلی کا کھلے عام گولی مارکر قتل کر دیا تو اس کے پس پشت ساورکر برادر کی ترغیب مانی جا رہی تھی، گاندھی جی نے سخت الفاظ میں لکھا تھا کہ سزا ڈھینگرا کو نہیں بلکہ اسے سیکھ دینے والے کو دی جانی چاہیے، گاندھی جی نے یہ بھی لکھا تھا کہ قتل نشے میں کیا گیا کام ہے، نشہ صرف شراب اور بھنگ کا ہی نہیں ہوتا ہے ،کسی جنون سے پر خیال کا بھی ہو سکتا ہے“۔

اس تنقید کے باوجود بھی گاندھی جی ساورکر جیسے مخالف سے بھی بات چیت کا سلسلہ قائم رکھنے کے حق میں تھے،وہ امید قائم کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت میں لگانے پر نظر رکھتے تھے،اس کی گاندھی جی میں زبردست صلاحیت تھی، گاندھی جی، ساورکر کی طرف سے شدھی تحریک میں تعاون اور حصے داری کے خلاف تھے، اس تناظر میں 1مارچ1927 کو رتناگیری میں ساورکر سے مل کر کہا تھا کہ متنازعہ اور اختلافی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کی ضرورت ہے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو دوتین دن میں رتناگیری میں قیام بھی کر سکتا ہوں، اس پر ساورکر نے گاندھی جی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ آزاد ہیں اور میں بندھن میں ہوں، میں آپ کو اپنی جیسی حالت میں ڈالنا نہیں چاہتا ہوں پھر بھی میں خط و کتابت ضرور کروں گا، دونوں کے درمیان کی بات چیت، 17مارچ 1927ءکے ’ینگ انڈیا‘ میں شائع ہوئی ہے، بعد کے دنوں میں گاندھی ساورکر تعلقات کا حوالہ اس وقت ملتا ہے جب 1933ءمیں ساورکر نے مندر داخلہ کی مہم شروع کی اور2 مندر کو دلتوں کے لیے کھولنے کا پروگرام رکھا تھا، اسی دوران میں گاندھی جی نے رتناگیری کے اپنے ایک معاون جے کر کو25فروری1933 ءمیں ایک خط میں لکھتے ہیں” پتا نہیں تقریب افتتاح کے متعلق لکھا میرا مکتوب ونائک راو تک پہنچا سکے تھے کہ نہیں، اس نے رتناگیری میں بہت اچھا سماجی کام کیا ہے اور آپ افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہو سکے ، اس سے شری یوتکر کو بڑی مایوسی ہوئی ہوگی۔

1937ءمیں رہائی کے بعد ساورکر ہندو مہا سبھا کے صدر بنے اور اس منصب پر1943ءتک فائز رہ کر قیادت کرتے رہے تھے، اس دوران کی یہ بات دلچسپ ہے کہ1939 ءمیں ساورکر اور ان کے معاونین نے ڈاکٹر امبیڈکر سے مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا کہ کانگریس اور مسلم لیگ بھارت کے تمام باشندوں یا ان کی اکثریت کی بھی نمائندگی نہیں کرتی ہے اور سرکار، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ہونے والے کسی بھی آئینی و انتظامی سمجھوتے کو ماننے کے لیے ہندستانی باشندے پابند نہیں ہیں، اس تناظر میں 12اکتوبر1939 ءکو گاندھی جی، ہری بھاو پھاٹک کو ایک خط میں لکھتے ہیں ۔

”تاتیا (ساورکر) جی نے جو کچھ تم سے کہا ہے تو وہ ان کی پرانی شکایت ہے، مجھے گھمنڈ نہیں ہے ،اس سلسلے میں خود قصور وار نہیں مانتا، ان کا اور ان کے دوستوں کا دل جیتنے کی میں نے بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا، اب چوں کہ تم نے میری بات سن لی ہے تو اب تم ہی مجھے بتاو کہ ان لوگوں کو جیتنے کے لیے مجھے کون سا جتن کرنا چاہیے۔‘‘

ملک کے مخصوص حالات میں گاندھی جی کے لیے عجیب کشمکش کی صورت حال تھی کہ ایک طرف وہ بھارت کے تکثیری سماج کو بنائے رکھنا چاہتے تو دوسری طرف ساورکر اور جناح اپنی اپنی فرقہ وارانہ سوچ کے تحت آگے بڑھ رہے تھے، گاندھی جی ان دونوں کو کسی بھی طرح منانا چاہتے تھے،ایک وقت ایسا بھی آیا جب ساورکر، جناح اور امبیڈکر تینوں نے ایکا کر کے کانگریس مخالف مورچہ بنا لیا تھا، اس پر گاندھی جی نے20 جنوری1940ءکے ہریجن میں ایک آرٹیکل بھی لکھا تھا، اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد1941ءمیں مسلم لیگ وزارت کی طرف سے پیش کردہ2 بل کے خلاف ہندو مہا سبھا نے کلکتہ میں ستیا گرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کانگریس میں رہ چکے، کلکتہ کے ایک ہندو مہا سبھا لیڈر منو رنجن چودھری نے گاندھی جی سے گزارش کی تھی کہ وہ ہندو مہا سبھا کے مجوزہ ستیا گرہ کی قیادت کریں تو انہوں نے1فروری1941ءکو بہت نرمی سے ایک خط میں چودھری کو لکھا ۔

” ستیا گرہ کی اپنی کچھ حدود و روایات ہیں اور پھر ہندو مہا سبھا کے بہت کم ممبران عدم تشدد میں یقین رکھتے ہیں، نہ تو شری ساورکر، نہ ہی ڈاکٹر مونجے اور نہ ہی بھائی پرمانند عدم تشدد میں یقین رکھتے ہیں، اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے، وہ اپنی آزاد رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں، لیکن میں ستیا گرہ کی قیادت نہیں کر سکتا، میرے خیال میں اتنا تو وہ خود مان لیں گے۔“

لیکن جب اسی سال دسمبر میں بہار سرکار نے ہندو مہا سبھا کے اجلاس پر روک لگا دی تو اسے گاندھی جی نے ہندو مہا سبھا کے جمہوری حق پر حملہ قرار دیتے ہوئے بہار سرکار کی سخت مذمت بھی کی اور27 دسمبر 1941ءکو ساورکر کی حمایت میں لکھا ۔

” مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ ساورکر، ڈاکٹر مونجے اور دیگر لیڈروں کو گرفتار ہوتے ہوئے دیکھ کر میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا ہے، کیوں کہ انھیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے عوامی امن کی حفاظت کے لیے، پوری احتیاط برتتے ہوئے، ایک محدود اجلاس کرنے کا ابتدائی بنیادی حق استعمال کرنے کی کوشش کی۔“

اس کا مطلب و مقصد ظاہر ہے کہ گاندھی جی چاہتے تھے کہ سبھا اور اس کے رہنما ساورکر جیسے لیڈر بھی ان کے عدم تشدد کے طور طریقے اور راستے پر چلنے کی کوشش اور سلیقہ سیکھ جائیں۔

یہی جذبہ گاندھی کو جناح اور لیگ کے پاس بھی لے جاتا تھا یہ اور بات ہے کہ اس کے نتائج واثرات بھی برآمد ہوئے ہیں ، ساورکر ، جناح کو مخاطب کرتے ہوئے ایک آرٹیکل میں گاندھی جی نے لکھا” میں ان کروڑوں ہندوؤں ، مسلمانوں اور غیر ہندو ؤں کے مشترکہ جذبے کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہو جو اپنے آپ کو بھارت ماتا کی اولاد کہتے ہیں ، میں اس ملک کے ایک ایک آدمی کی آزادی کے لیے جی رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس کے لیے مرنے کی طاقت بھی حاصل ہوگی“ (ہریجن 19جولائی 1942)

باریکی سے گاندھی ، ساورکر کے مطالعے سے دونوں کے درمیان تعلقات کی جو نوعیت سامنے آتی ہے ۔ اس کا ہندوتوادی عناصر اور سنگھ کی پیش کردہ تعبیر و تصویر سے کوئی خاص لینا نہیں ہے ، گاندھی جی کا قتل ، ہندو مہا سبھا اور ساورکر کی کچھ الگ قسم کی شبیہ و تصویر پیش کرتاہے ،دونوںرامائن ، مہا بھارت، گیتا کی مختلف تعبیر و تصور کو ساورکر اور گاندھی جی کے فکرو کردار میں بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ دونوں کے تعلقات سے تکلیف دہ پیدا حالات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے کہ سماج اور نئی نسل کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور نفرت انگیز تقسیم کے انتخاب میں عقل و بصیرت کا استعمال ہونا چاہیے ۔ جینے کی سیدھی راہ کے انتخاب کے لیے ضروری ہے کہ نظریاتی اور عمل اختلافات کے تناظر میں الگ الگ اور ساتھ ساتھ ہونے کی واقعی نوعیت کو جانا سمجھا جائے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN