غزہ میں جنگبندی سے متعلق ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور دو امریکی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے اور امریکی ضمانت کی فراہمی کے بدلے میں غزہ میں دو ماہ کے لیے جنگ بندی اور انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز پر ابھی تک حماس یا اسرائیل کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے ۔ کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کوششوں سے مذاکرات میں تعطل کا خاتمہ ہو گا۔ "فاکس نیوز” کے مطابق اس سے قبل ایک سینئر امریکی عہدیدار اور غزہ کی پٹی پر ہونے والے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک ذاتی خط لکھا تھا جس میں غزہ میں 60 دنوں کے لیے جنگ بندی کی ضمانت کی درخواست کی گئی تھی جس میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے نصف کی رہائی کی ضمانت دی گئی تھی۔خط کے مسودے کا جائزہ لینے والے ذریعے نے یہ بھی بتایا ہے کہ حماس نے ضمانت کی درخواست کی ہے کہ جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جنگ کے خاتمے اور باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری رہے گی ۔ ذریعے نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ یہ خط فی الحال قطری ثالثوں کے پاس ہے اور توقع ہے کہ اس ہفتے ٹرمپ کو پہنچا دیا جائے گا۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ بارہا حماس کو خبردار کر چکے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ حماس ان کی تجاویز کا جواب دے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے
اس ماہ کے شروع میں امریکی صدر نے حماس کو ایک واضح انتباہ جاری کیا اورزور دیا کہ مزید انتباہات نہیں ہوں گے۔ اپنے ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اس وقت کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ یرغمالیوں کی گھر واپسی ہو اور اس جنگ کا خاتمہ ہو۔ اسرائیلیوں نے میری شرائط مان لی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حماس بھی ان کو قبول کرے۔ ٹرمپ کی جانب سے حماس کے لیے حتمی الٹی میٹم جاری کرنے کے بعد ٹرمپ نے اپنے یقین کا اظہار کیا کہ معاہدہ زیادہ دور نہیں ہوگا۔








