ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے چنانچہ بڑھتے دباؤ کےدرمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔وہہب ان کے وزیر دفاع ایران پر آپ تک شدید بھیانک حملہ کرنے کی دھمکی بی دے رہے ہیں مبصرین کے مطابق یہ موقف امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی یا یو ٹرن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ کے اندر بھی اس تنازع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کے باعث کانگریس کے بعض اراکین اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کو دھمکی، ایران ختم نہیں ہوگا، ہوشیار رہیں کہ آپ خود کو ختم نہ کرلیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل کا بہاؤ روکا تو وہ ایران پر بیس گنا سخت حملہ کریں گے۔ اس دھمکی کے بعد ایرانی سیکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے ٹرمپ کے نام ایکس پر ایک پیغام لکھا ہے۔لاریجانی نے لکھا: "ایران کی قربانی دینے والی قوم آپ کی خالی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔ آپ سے بڑے لوگ بھی ایران کو ختم نہیں کر سکتے۔ ہوشیار رہیں کہ آپ خود کو ختم نہ کرلیں۔”
ایران کے اسرائیل، قطر اور متحدہ عرب امارات پر تازہ حملے
اسرائیل، قطر اور متحدہ عرب امارات تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران نے ان کے ملکوں پر میزائل داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو انتباہی پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی دفاع نظام ’فی الحال ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔‘ انھوں نے قریبی علاقوں میں رہنے والوں سے ’حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے‘ کی ہدایت کی ہے۔



