ہرش وردھن جین کو یوپی اے ٹی ایس نے غازی آباد کے کوی نگر میں فرضی سفارت خانہ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جو کہ قومی راجدھانی کے علاقے میں آتا ہے، کسی کو کسی چیز پر شک نہیں ہے۔سفارتی نمبر پلیٹس کے ساتھ باہر کھڑی ایک آڈی اور ایک مرسڈیز سمیت لگژری کاروں کے قافلہ کے ساتھ ایک بہت ہی شاندار بنگلے میں جہاں سب کچھ جعلی اور فرضی تھا کمال ہے نا ، جین سات سال تک سفارت خانہ چلاتا رہا اور کسی کو بھنک تک نہیں لگی وہ بھی ایسے فرضی ملک کے نام سے جس کا وجود تک نہیں ،ہمارء ایجنسیوں کی آنکھ میں دھول جھونکتارہا ـ
جین نام کا جعلساز مائیکرو نیشن کے لیے ایک سفارت خانہ چلا رہا تھا جسے کسی بھی ریاست نے تسلیم نہیں کیا، اور مبینہ طور پر مغربی آرکٹیکا، سبورگا، پولویا اور لوڈونیا جیسے غیر موجود ممالک کے قونصل/سفیر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ آخر کار منگل کو اتر پردیش پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس نے اس کے جھوٹ کے جال کا پردہ فاش کیا اور اسے گرفتار کرلیا
**کون ہے ہرش وردھن جین؟
انڈیا ٹوڈے india today کی رپورٹ کے مطابق، ہرش وردھن جین لندن کالج آف اپلائیڈ سائنس سے ایم بی اے گریجویٹ ہیں اور غازی آباد کے آئی ٹی ایس کالج سے بھی۔ غازی آباد کے ایک تاجر کا بیٹا، اس کا خاندان راجستھان میں ماربل کی کانوں کا مالک تھا۔ تاہم، اس کے والد کے انتقال کے بعدخاندان کو مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، جین نے اس دوران متنازعہ سادھو چندرا سوامی سے ملاقات کی، جس کی مدد سے وہ لندن چلا گیا اور کئی کمپنیاں کھولیں۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق ان کمپنیوں کا استعمال بے حساب رقم چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس کے بین الاقوامی اسلحہ ڈیلر عدنان خشوگی کے ساتھ بھی روابط تھے، جیسا کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے۔جین چندرا سوامی کی موت کے بعد ہی غازی آباد واپس آیا اور لوگوں کو ٹھگنے کے لیے فرضی سفارت خانہ کھول کیا یہاں تک کہ اس نے اہم سیاسی شخصیات جیسے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ اپنی تصاویر کو درست ظاہر کرنے کے لیے ان سے چھڑچھاڑ کی مورف کیا
یہ گرفتاری جین کی جانچ ایجنسیوں کے ساتھ پہلی ‘مڈبھیڑ’ نہیں تھی۔ یوپی پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ 2011 میں، غیر قانونی سیٹلائٹ فون کے ساتھ برآمدکیا تھا، اور غازی آباد کے کوی نگر پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا تھا۔
** جعلی سفارت خانہ کیوں چلا رہا تھا؟
اجعلی سفارت خانے کی آڑ میں مبینہ طور پر نوکری دلوانے کا جھانسہ اور حوالات کا ریکیٹ چلایا جاتا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ جین کی اہم سرگرمیوں میں، جعلی سفارت خانے کے ذریعے، کمپنیوں اور افراد کو بیرون ملک کام کرنے کے لیے دلالی کے سودے اور شیل کمپنیوں کے ذریعے حوالا ریکیٹ چلانا شامل تھا۔اس نے مبینہ طور پر لوگوں کا اعتماد جیتنے کے لیے اپنی جعلی سفارتی شخصیت کا استعمال کیا اور انہیں نوکریوں یا تجارت کے مواقع سے دھوکہ دیا۔
**کیا کیا ملا
اس کے قبضے سے کئی ملکوں کی کرنسی کے علاؤہ ڈپلومیٹک نمبر پلیٹس والی چار گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں، ساتھ ہی 18 ڈپلومیٹک نمبر پلیٹس اور 12 مائیکرو نیشن کے سفارتی پاسپورٹ بھی قبضے میں لیے گئے۔اس کے پاس وزارت خارجہ کی مہر کے ساتھ جعلی دستاویزات، دو جعلی پین کارڈ، مختلف ممالک اور کمپنیوں کی 34 مہریں، دو جعلی پریس کارڈ، اور مختلف کمپنیوں کے دستاویزات بھی تھے، جنہیں پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔Hindutan timesکے ان پٹ کے ساتھ








