گروگرام: (ایجنسی)
گروگرام کے سیکٹر 12 میں عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کی مخالفت میںاحتجاج کے بعد گروگرام انتظامیہ نے 37 میں سے 8 نامزد مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت منسوخ کر دی ہے۔بتادیں کہ ان مقامات کو لے کر ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے مخالفت کی جارہی تھی، ایسے میں اب انتظامیہ نے ان مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت منسوخ کردی ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز گروگرام پولیس نے جمعہ کی نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے پر ہندوتوا تنظیم کے ارکان سمیت 26 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2018 میں انتظامیہ کی جانب سے ہندو اور مسلم کمیونٹی کے افراد کے ساتھ مشاورت کے بعد نماز پڑھنے کے لیے 37 مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
حالانکہ، سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی کے ریاستی صدر مہاویر بھاردواج کا کہنا ہے کہ 2018 میں نماز کے لیے نامزد مقامات کی لسٹ فرضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں کی گئی ہے۔ جو فہرست گردش کی جا رہی ہے اس میں ہماری تنظیم کے کسی بھی شخص کی رضامندی اور دستخط نہیں ہے۔ ہمارا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ کسی بھی عوامی جگہ پر نماز ادا نہ کی جائے۔
بتادیں کہ 2 نومبر بروز منگل جن جگہوں پر ضلع انتظامیہ نے نماز پڑھنے کی اجازت منسوخ کی ہے ان میں بنگالی بستی سیکٹر-49، V-بلاک ڈی ایل ایف III، سورت نگر فیز -1، کھیڑی ماجرا گاؤں کے باہر، دوارکاایکسپریس وے پر دولت آباد گاؤں کے پاس، سیکٹر68-گاؤں رام گڑھ کےپاس، ڈی ایل ایف اسکوائر ٹاور کے پاس اور گاؤں رام پور سے ناکھڈولہ شامل ہیں ۔
اس معاملے میں گروگرام کے ڈپٹی کمشنر یش گرگ نے ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ، ایک اے سی پی سطح کے پولیس افسر، ہندو اور مسلم کمیونٹی کے ممبران اور سماجی تنظیموں کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے ذریعے ان مقامات کی فہرست تیار کی جائے گی جہاں مستقبل میں نماز جمعہ ادا کی جا سکے ۔
ساتھ ہی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تشکیل دی گئی کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی سڑک، چوک یا عوامی مقام پر نماز نہ پڑھی جائے۔ نماز کے لیے جگہ کی نشاندہی یا تعین کا فیصلہ مقامی باشندوں کی رضامندی سے ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اہل علاقہ کی طرف سے نماز کی ادائیگی میں کوئی مخالفت نہ ہو۔
بتادیں کہ مظاہروں کے درمیان پیر کو مسلم کمیونٹی کے کچھ ارکان نے ڈی سی گرگ سے ملاقات کرکے مانگ کی تھی کہ انتظامیہ یا تو انہیں مسجد بنانے کے لیے اضافی زمین الاٹ کرے یا پھر 19 مساجد اور وقف بورڈ کی جائیدادوں کو تجاوزات سے آماد کرائے ۔
مسلم ایکتا منچ کے صدر شہزاد خان نے آٹھ مقامات پر نماز کی اجازت واپس لینے کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کمیٹی کے اجلاس میں اس کی مخالفت کریں گے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ فیصلہ کس دباؤ میں کیا گیا۔ خان نے کہا کہ ہم نے حکام کے ساتھ میٹنگوں میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر ہندو برادری نماز کی جگہ پر پوجا کرنا چاہتی ہے تو ہم سیکٹر 12 والی جگہ سے شفٹ ہو جائیں گے۔
شہزاد خان نے سوال کیا کہ ہم نے میٹنگ میں کہا تھا کہ اگر وقف بورڈ کی جائیدادوں سے تجاوزات ہٹا دی جائیں تو ہم وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ہم نماز کہاں پڑھیں گے؟ گڑگاؤں میں 5 لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں اور نماز پڑھنے کے لیے صرف 13 مساجد ہیں۔







