گستاخی معاف :قاسم سید
آسام کے وزیراعلی کی لگاتار ہیٹ اسپیچ ،مسلم کمیونٹی کو دھمکیاں ،انہیں پریشان کرنے کی ترغیب محض ایک بدتہذیب سیاسی بیان بازی نہیں، یہ ریاستی سطح پر آئینی بغاوت ہے اور اس پر خاموشی خود ایک جرم بنتی جا رہی ہے۔جمعیتہ کے صدر مولانا محمود مدنی نے اس عاملہ پر معاملہ سپریم کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہوری کمیونٹی کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے ،مگر صرف یہی کافی نہیں ہے
آسام کے وزیرِ اعلیٰ کا یہ کہنا کہ “مسلمانوں کو پریشان کرو، ان کے کام کے پانچ روپے مانگے جائیں تو چار دیے جائیں” کسی سڑک چھاپ لیڈر کی زبان نہیں، بلکہ ایک آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کی منصوبہ بند نفرت ہے۔ یہ بیان صرف ، مسلمانوں کی تضحیک نہیں کرتا، بلکہ آئینِ ہند کے آرٹیکل 14 (برابری)، آرٹیکل 15 (امتیاز کی ممانعت) اور آرٹیکل 21 (وقار کے ساتھ جینے کا حق) پر کھلی ضرب ہے۔ جب ریاست کا سربراہ خود شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر ہراساں کرنے کی ترغیب دے، تو یہ hate speech نہیں رہتی، state-sponsored persecution بن جاتی ہے۔اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایسا بیان کیوں دیا گیا — اصل سوال یہ ہے کہ معزز سپریم کورٹ کہاں ہے؟وہ خاموش کیوں ہے ایک آئینئ عہدے پر فائز شخص کی کھلم کھلا آئین شکنی از خود نوٹس کیوں نہیں لیا جارہا اگر ایک وزیرِ اعلیٰ مخصوص مذہبی گروہ کے خلاف اجتماعی تعصب کو پالیسی کی صورت میں پیش کرے اور عدالت خاموش رہے، تو پھر یہ خاموشی غیرجانبداری نہیں، رضامندی کہلائے گی۔
رہے مسلمان؟تو وہ ایک ایسے ماحول میں کھڑے ہیں جہاں ریاست، نظام اور سیاست تینوں یک زبان ہو چکے ہیں۔ یہاں احتجاج کو “امن و امان کا مسئلہ” کہا جاتا ہے، قانونی لڑائی کو “سیاسی ایجنڈا”، اور خود دفاع کو “اشتعال انگیزی”۔ دوسری طرف اب ی یہ سب “نارمل” ہے۔یہ لمحہ صرف بیان دینے کا نہیں، مزاحمتی سیاست کا ہے — آئینی، قانونی، اور فکری مزاحمت۔
مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب نفرت پالیسی بن جائے تو خاموشی بقا کی حکمت نہیں، خودکشی بن جاتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جو آج مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ کل کسی اور کے ساتھ ہوگا — کیونکہ جب آئین ٹوٹتا ہے تو وہ کسی ایک مذہب کو نہیں، پورے سماج کو روندتا ہے۔ اتراکھنڈ اس کی مثال ہے ،وارانسی اس کا اظہار ہے ،
اگر سپریم کورٹ اب بھی نہیں جاگتی، اگر سیاسی نظام اب بھی آنکھ بند رکھتا ہے، تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی:جب نفرت سرکاری زبان بن گئی تھی، تب نگہبان کہاں تھے؟









