نئی دہلی : (ایجنسی)
ہندوتو وادی سماج بری طرح نظریاتی و عملی بحران میں مبتلا ہے، اس سے نکلنے کے لیے، رام، ہنومان، مہادیو جیسی مذہبی علامتوں کا استعمال کرتے ہوئے فرقہ وارانہ خطوط پر سماج کی تقسیم کی مہم چلائی جا رہی ہے، اسی کا حصہ ،گجرات اور گروگرام میں ،اشتعال انگیز نعرے اور نماز سے روکنا بھی ہے، ہمارے یہاں گریز کو مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے، یکطرفہ طور پر فرقہ پرست عناصر کی باتیں نشر ہو کر ہندو مسلم دونوں کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کا اندازہ 23اکتوبر2021 کو دیوبند جاتے ہوئے بھی ہوا، ہمیں بنیادی سوالات اٹھاتے ہوئے بھرم کو دور کرنا ہوگا۔
ایک صاحب سے بات چیت میں ہم نے بتایا کہ یوگی اور یتی نرسنہا نند دونوں ہندو سماج کے بڑے حصے کی بے خبری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، گورکھ ناتھ، مورتی پوجا کے خلاف تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے تھے، انھوں نےیہ بھی کہا ہے کہ میں جنم سے ہندو، یوگ سادھنا سے جل کر جوگی اور مسلمان پیروں کا ادراک توحید میرے ساتھ ہے ، اس تناظر میں یوگی کا رام مندر تحریک کا حصہ بننا اور یتی نرسنہا نند کا اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ بیان اور مٹانے کا اعلان حماقت و خباثت کے سوا کچھ اور نہیں ہے، اس سلسلے میں ہم نے لوک بھارتی پرکاشن کی شائع کردہ ،کنہیا سنگھ کی کتاب گورکھ ناتھ کا حوالہ دیا تھا، اس سے مخاطب کہنے لگا کہ ایسا ہے، ؟اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیل چل رہا ہے، میں بھی کتاب دیکھتا ہوں، میرا انبالہ آنا جانا ہوتا رہتا ہے، گھر کے حوالے سے باتیں سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، کچھ سیاسی اور فرقہ وارانہ ذوق کے لوگ ادھر ادھر باتیں کر کے معاملے کو دوسرا رخ دے دیتے ہیں، اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔








