اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندو تنظیمیں نجی کمپنیوں کو مسلم مخالف نظریات پر کیسے مجبور کرتی ہیں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندو تنظیمیں نجی کمپنیوں کو مسلم مخالف نظریات پر کیسے مجبور کرتی ہیں؟
45
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:شکیل اختر

ملبوسات بنانے والی مقبول کمپنی فیب انڈیا نے ’جشن رواج‘ نام کا اپنا ایک اشتہار منگل کو معذرت کے ساتھ واپس لے لیا۔ کئی سرکردہ ہندو تنظیموں اور بی جے پی کے رہنماؤں نے اس اشتہار پر یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے لیے بنایا گیا یہ اشتہار ہندو مخالف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیب انڈیا کمپنی ہندوؤں کے تہوار دیوالی کو ’مسلیمائز‘ کرنے یا مسلم رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما تیجسوی سوریہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ’دیوالی جشن رواج نہیں ہے۔ یہ ہندو تہوار کو دانستہ طور پر ایببراہیمائز یعنی مسلم رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

بی جے پی کے ایک دیگر رہنما کپل مشرا نے کہا کہ ’فیب انڈیا کا سامان مت خریدیے۔‘ کئی دیگر ہندو تنظیموں اور رہنماؤں نے بھی فیب انڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ فیب انڈیا‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔

سرکردہ پبلک ریلیشنز کمپنی ’پرفیکٹ ریلیشنز‘ کے بانی اور ایڈگرو دلیپ چیئرمین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا:’ ’فیب انڈیاکا جشن رواج مارکیٹنگ حکمت عملی کا ایک طریقہ تھا۔ اس کام کا مقصد ہندو مذہب کو نقصان پہنچانا تو قطعی نہیں تھا۔ دوسرے ہندو مذہب یا ہمارے تہوار اتنے کمزور اور کھوکھلے نہیں ہیں کہ اسے کوئی نیا نام دیے جانے سے اس پر چوٹ آ جاتی یا کوئی اثر پڑتا۔‘‘

سابق وزیر اور بی جے پی کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڑے نے ٹائر بنانے والی کمپنی ’سی ایٹ‘ سے کہا ہے کہ وہ فلم اسٹار عامر خان کا اپنا اشتہار واپس لے۔

اس اشتہار میں عامر خان کو یہ پیغام دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ دیوالی پر لوگ پٹاخے نہ پھوڑیں۔ ہیگڑے کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار ہندو مخالف ہے۔ انھوں نے کمپنی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ بالی ووڈ کے ’ہندو مخالف‘ مسلم اداکار ہندو مذہب اور تہواروں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ انھوں کہا کہ یہ فلم اسٹارز سڑک پر نماز پڑھنے اور لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اونچی آواز سے پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں کبھی کوئی اشتہار نہیں بناتے۔

اس سے پہلے واشنگ پاؤڈر سرف کے ایک اشتہار میں ہولی کے تہوار میں ایک مسلم بچے اور ایک ہندو بچی کو ہولی کھیلتے ہوئے دکھايا گیا تھا۔ اس اشتہار کے خلاف بھی ہندو تنظیموں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

چند ماہ قبل پہلے ٹاٹا گروپ کی زیورات کی کمپنی تنشک بھی اسی طرح کے ایک اشتہار کے سبب ہندو سخت گیروں کی زد میں آئی تھی۔ ان کمپنیوں کو معذرت کے ساتھ ان اشتہاروں کو واپس لینا پڑا تھا۔

بالی ووڈ کے متعدد فلم اسٹارز اور ہدایت کاروں کو بھی بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہندو تنظیموں کے حملے کے سبب کئی فلموں میں کہانی اور مناظر تبدیل کرنے پڑے ہیں۔ بیشتر معاملوں میں تنازع کسی مسلم تھیم، یا مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے اشتہاروں اور فلموں سے پیدا ہوئے۔ لیکن کچھ عرصے پہلے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے ملک کی سرکرہ کمپنی انفوسس کو ہدف بنایا تھا۔

آر ایس ایس کے جریدے ’پانچ جنیہ‘ کے اداریے میں انفوسس کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا گیا تھا۔ یہ کمپنی حکومت کی وزارت خزانہ کا انکم ٹیکس پورٹل دیکھتی ہے۔ اس میں کچھ خامی تھی جو مقررہ وقت پر دور نہیں ہو سکی تھی۔

آر ایس ایس کے جریدے نے انفوسس پر ملک کی معیشت کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ اس مضمون میں یہ بھی کہا گیا تھا یہ کمپنی ہندو مخالف نکسل نظریات کو فروغ دینے میں مدد کر رہی ہے۔ ملک کے تمام صنعتی ادارے تمام واقعات میں خاموش رہتے ہیں۔

ہندو گروپوں اور تنظیموں کی جانب سے کسی کمپنی، فرد یا صنعتی گروپ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم جلائی جاتی ہے۔ الگ الگ جگہ بیانات دیے جاتے ہیں۔ مظاہرے اور احتجاج کیے جاتے ہیں ۔ دھمکیوں اور کبھی کبھی شو رومز اور سنیما گھروں یا شوٹنگ کے سیٹس پر حملوں سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کے نظریات کے مطابق عمل کیا جائے ورنہ اقتصادی قصان اٹھانے کے تیار رہیں۔ اس طرح کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دلیپ چیرین کا خیال ہے کہ یہ گروپ کمپنیوں پر اس لیے حملے کر رہے ہیں کیوںکہ یہ آسان ہدف ہیں۔ ’آپ کمپنی پر حملہ کریں، بالی وڈ کو نشانہ بنائیں یا کسی کرکٹر پر حملہ کریں یہ تینوں آسان ہدف ہیں۔ ان کو نہ لڑنے کا طریقہ معلوم ہے اور نہ لڑنے کی ہمت ہے۔ یہ سوچتے ہیں جلدی اس مشکل سے نکلو اور اس سے بچو۔‘

ملک کے نامور صحافی اور ’دی پرنٹ‘ پورٹل کے مدیر شیکھر گپتا کا کہنا ہے کہ یہ رحجان اس لیے فروغ پا رہا ہے کیوںکہ کارپوریٹ حملوں سے ڈر جاتے ہیں۔ وہ کسی تنازعے میں ہرگز نہیں پڑنا چاہتے ہیں۔ وہ فوراً ڈر جاتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں جس سے حملہ کرنے والے کی ہمت بڑھ جاتی ہے۔‘

شیکھر گپتا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’ آپ دیکھئے سنیما ہال پر حملے ہو جاتے ہیں۔ چار پتھر پھینک دیں تو سب لوگ ڈر جاتے ہیں۔ عامر خان کے برینڈ کا بائیکاٹ کروایا۔ ابھی شاہ رخ کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ بند طریقے سے ہوتا ہے۔ فلم انڈسٹری بہت بااثر ہے۔ اس میں بڑے بڑے سٹارز ہیں، لیڈر ہیں، ان کو کھڑے ہو کر بولنا چاہیے لیکن وہ چونکہ نہیں بولتے۔‘ ’ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ میں نہیں بولوں گا تو بچ جاؤں گا اور پھر یہی ہوتا ہے جب ان کے اوپر مصیبت آتی ہے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوتا۔‘

ایڈ گرو دلیپ چیرین کہتے ہیں کہ کئی مطالعوں سے پتہ چلتا ہے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کے ہیش ٹیگ اور ٹرولز کی مہم سے صارفین پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا اور بالآخر فیصلہ کسی برینڈ کے معیار سے ہی طے ہوتا ہے۔ شیکھر گپتا کا خیال ہے کہ ہندو گروپوں کے حملے میں تیزی کمپنیوں اور بالی وڈ میں ڈر کے علاوہ خطرہ مول نہ لینے کے رحجان سے آئی ہے۔ اس لیے کوئی بھی ان تنظیموں اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب تک سب لوگ مل کر نہیں

کھڑے ہوں گے تب تک یہ نہیں بدلے گا۔‘

(بشکریہ :بی بی سی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN