نئی دہلی:مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم ایس او) اور سنی تنظیم رضا اکیڈمی نے "آئی لو محمد” پوسٹر کیس کے سلسلے میں ایف آئی آر اور گرفتاریوں کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ پوسٹرز محض عقیدت اور ایمان کا اظہار تھے لیکن انہیں زبردستی فرقہ وارانہ موڑ دیا گیا۔
امراجالا کے مطابق عرضی میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش کے قیصر گنج اور بہرائچ سمیت کئی مقامات پر مذہبی تہوار کے دوران محض پوسٹر اور بینرز آویزاں کرکے اور پرامن جلوس نکالنے پر عام شہریوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ان پر فسادات، دھمکیاں اور امن کی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ایف آئی آر فرقہ وارانہ نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد اقلیتی برادری کے مذہبی اظہار کو مجرم بنانا ہے۔
واضح رہے کہ تنازعہ 9 ستمبر کو شروع ہوا، جب کانپور میں پولیس نے عیدمیلادالنبی جلوس کے دوران ایک عوامی سڑک پر ” I Love mohammed ” کے بینرکو آویزاں کرنے پر نو نامزد اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔یہ معاملہ بڑھ گیا اور یہاں تک کہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کی توجہ بھی مبذول کرائی، جنہوں نے کہا کہ "میں محمد سے محبت کرتا ہوں” کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ تنازعہ آہستہ آہستہ اتر پردیش کے کئی اضلاع سے اتراکھنڈ اور کرناٹک تک پھیل گیا، جہاں احتجاج اور پولیس کی بربریت کا مشاہدہ کیا گیا۔








