نئی دہلی:(ایجنسی)
بھارت ان 12 ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کو قتل کرنے کے بعد بھی مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے ذریعہ جاری کردہ گلوبل امیونٹی انڈیکس 2021 کے مطابق گزشتہ 10 سالوں کے دوران صحافیوں کے قتل کے 81 فیصد معاملوں میں کسی کو بھی ذمہ دارنہیں ٹھہرایا گیا ہے ۔
دی پرنٹ کے ذریعہ ایکسس کی گئی سی پی جی کی اس رپورٹ کے مطابق صحافیوں کی ان سلجھے قتلوں کے معاملے میں صومیالیہ دنیا کا سب سے خراب ملک بنا ہوا ہے ۔ وہیں شام، عراق اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک صومالیہ سے پیچھے ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس میں افغانستان میں صحافیوں کے سامنے بڑھتے چیلنجز کو پوری طرح سے نہیں ظاہر کیا گیا ہے ،کیونکہ رپورٹ کے لیے لیا گیا ڈیٹا یکم ستمبر 2011 سے 31 اگست 2021 کی مدت کا ہے ۔
حالانکہ اس میں کہا گیا کہ طالبان نے اگست کے وسط میں امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلاء اور صدر اشرف غنی کے ملک سے بھاگنے کے درمیان افغانستان پر کنٹرول کر لیا،جس کے ڈر سے صحافی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ انہیں پریس کی آزادی کو لے کر طالبان کے پچھلے ریکارڈ کا خوف تھا ۔
سی پی جے کی جاری کردہ رپورٹ میں افغانستان پانچویں نمبر پر ہے، جہاں صحافیوں کے قتل کے 17 کیسز ابھی تک حل طلب ہیں۔ وہیں میکسیکو، فلپائن، برازیل، پاکستان، روس، بنگلہ دیش، بھارت بالترتیب چھٹے، ساتویں، آٹھویں، نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں نمبر پر ہیں۔ بھارت میں صحافیوں کے قتل سے متعلق 20 غیر حل شدہ مقدمات ہیں۔
سی پی جے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 10 سالوںکے اندر 278 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے اور ان معاملوں میں 226 یا 81 فیصد معاملوں میں مجرم کو سزا نہیں مل سکی ۔
میکسیکو مسلسل دوسرے سال انڈیکس میں چھٹے مقام پر ہے ۔ عالمی سطح پر2020 میں کم از کم 22 صحافیوں کا قتل ان کے ذریعہ کئے جارہے کام کے بدلے میں ہوا ہے ۔یہ اعداد وشمار 2019 کے کل معاملوں سے دوگنا سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میںگلوبل امیونٹی انڈیکس کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے ، اس کی بھی جانکاری دی گئی ہے ۔ اس انڈیکس کو ہر ملک کی آبادی کے فیصد کے حساب سے صحافیوں کے قتل کے حل طلب معاملوں کی تعداد کا حساب لگاتا ہے ۔ اس انڈیکس میں صرف ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جہاں پانچ یا اس سے زیادہ غیر حل شدہ کیسز ہیں۔
سی پی جے قتل کومتاثرہ کے کام کے بدلے کے طور پر ایک مخصوص صحافی کا جان بوجھ کر کیاگیا قتل کے طور پر تعارف کرتا ہے ۔ معاملوں کو تب ان سلجھا مانا جاتا ہے جب کوئی قصوروار ثابت نہیں ہوتا ہے ، بھلے ہی مشتبہ کی شناخت کی گئی ہو اور وہ حراست میں ہوں۔
اس انڈیکس میں ان صحافیوں کی اموات شامل نہیں کئے گئے ہیں جو جنگ میں یا خطرناک کام کے دوران مارے گئے تھے ۔ سی پی جے ایک آزاد اورغیر منافع بخش تنظیم ہے جو دنیا بھر میں پریس کی آزادی کے لیے کام کرتی ہے ۔







