لکھنؤ، (خصوصی رپورٹ)
رائے امانتھ آڈیٹوریم، بھٹکھنڈے، قیصر باغ لکھنؤ میں انٹرنیشنل یونانی فورم (IUF) کے زیرِ اہتمام پانچواں IUF یونانی کون-2025 اور تیسری IUF نیشنل یونانی کوئز و کیس رپورٹ مقابلہ 2025 نہایت شاندار اور باوقار انداز میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے آئے تین سو سے زائد اطباء، محققین، اساتذہ، اسکالرز اور یونانی اداروں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماع یونانی برادری میں علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی—خصوصاً مصنوعی ذہانت—کے بڑھتے ہوئے رجحان کا واضح مظہر تھا۔
افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے IUF کے فاؤنڈر ٹرسٹی و آرگنائزنگ چیئرمین ڈاکٹر مبشر خان نے اس امر پر زور دیا کہ دنیا کے تیز رفتار سائنسی ارتقا نے یونانی طب کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کو اپنے نظامِ تشخیص، علاج اور تحقیق میں شامل کرے۔ چیف گیسٹ پروفیسر سید وسیم اختر (بانی و چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کے ذریعے تحقیق کے نئے افق روشن ہو سکتے ہیں اور یونانی طب کے لیے بے شمار امکانات کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
تقریب سے ڈاکٹر محمد خالد، پروفیسر جمال اختر، ڈاکٹر نجم السحر، پروفیسر وسیم احمد، ڈاکٹر اجمل اخلاق اور ڈاکٹر سلمان خالد نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یونانی طب کا مستقبل سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور شواہد پر مبنی طب سے جڑا ہوا ہے اور آنے والا دور یونانی معالجین کے لیے نئے دروازے کھولنے والا ہے۔
اس موقع پر معروف محققین کی کتاب تفہیم الصیدلہ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی، جس کے مصنفین ڈاکٹر سید الرحمٰن اور ڈاکٹر شیخ عزیز احمد مقبول ہیں۔ اس کتاب کو علمی حلقوں میں یونانی materia medica کے باب میں ایک اہم شمولیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران قومی سطح کے دونوں مقابلوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ تیسری IUF نیشنل یونانی کوئز کوئسٹ-2025 میں ملک بھر کے 870 طلبہ نے حصہ لیا، جن میں سے تین فائنلسٹ طلبہ کو اسٹیج پر انعامات سے نوازا گیا۔ جبکہ پہلی IUF کلینیکل کیس کوئسٹ-2025 کے تینوں انعام یافتگان کا اعلان بھی کیا گیا، جن کی رہنمائی ڈاکٹر ایاز احمد، ڈاکٹر خورشید راعنی، ڈاکٹر پرویز عالم اور ڈاکٹر صفوان قدوائی نے کی۔ مہمانانِ خصوصی کو اسٹیج پر شیلڈز اور میمنٹوز پیش کیے گئے اور سپورٹ سوسائٹی دہلی کی جانب سے بھرپور معاونت فراہم کی گئی۔کانفرنس کے دوسرے حصے میں جدید ترین موضوعات پر خصوصی خطابات پیش کیے گئے، جن میں یونانی طب میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال، کلینیکل انوویشنز، مشین لرننگ، تحقیق اور اخلاقی تقاضوں جیسے اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا۔ ان خطابات میں ڈاکٹر محمد تنویر عالم، ڈاکٹر اسامہ اکرم، ڈاکٹر محمد شاہد ملک، ڈاکٹر نعمان انور اور ڈاکٹر مصباح الدین اظہر نے انتہائی جامع اور مدلل نکات پیش کیے، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔
ورکشاپ کے دوران CCRUM کے تیار کردہ “Know Your Mizaj” موبائل و ویب ایپلیکیشن کی عملی تربیت ڈاکٹر اسامہ اکرم نے دی۔ شرکاء نے اس ایپ کی افادیت اور اس کے جدید طرزِ استعمال کو یونانی طب کی سمت میں ایک مثبت اور عملی قدم قرار دیا۔
اختتامی اجلاس ڈاکٹر ایاز احمد، ڈاکٹر شہنواز، ڈاکٹر شکیل احمد اور ڈاکٹر خورشید احمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ شرکاء نے اس پورے پروگرام کو نہایت فکر انگیز، معلوماتی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں یونانی طب کے مستقبل کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گی۔ اختتام پر ڈاکٹر ایاز احمد نے تمام شرکاء، مہمانان اور معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا، اور تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
واضح رہے کہ یہ کانفرنس انٹرنیشنل یونانی فورم (IUF) اور سپورٹ سوسائٹی دہلی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی، جسے یونانی طب اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان مضبوط ربط قائم کرنے کی سمت ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔







