میزان :دانش اصلاحی
ایران کی موجودہ سیاسی اور سلامتی کی صورتِ حال کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ بات بعید از قیاس نہیں تھی کہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور داخلی سکیورٹی کے مسائل کے درمیان مجتبیٰ کے منصبِ رہبری تک پہنچنے کے امکانات مضبوط ہو جائیں۔ اگرچہ ان کا انتظامی تجربہ محدود سمجھا جاتا ہے اور وہ اس سے پہلے کسی نمایاں یا اعلیٰ انتظامی منصب پر فائز نہیں رہے، تاہم سلامتی کے اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی روابط نے منصبِ رہبری کے دیگر ممکنہ امیدواروں کے مقابلے میں ان کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حامی حلقوں سے ان کی قربت نے بھی ان کی پشت پناہی کو مزید وزن دیا۔ احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ انتخاب کے بعد اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کرنے والوں میں مجتبیٰ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ مزید برآں ایران کی پارلیمان کے سابق اسپیکر غلام حداد عادل—جو مجتبیٰ کے سسر بھی ہیں—کی سیاسی و سماجی حمایت بھی اس سلسلے میں ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ علی خامنہ ای نے 2009 میں—جب یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ مجتبیٰ کو اپنے والد کا جانشین بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے—یہ واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کوئی ’’شاہنشاہی نظام‘‘ نہیں ہے جہاں اعلیٰ ترین منصب وراثت کے طور پر منتقل ہوتا ہو، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس بیان کی معنوی قوت بھی کمزور پڑتی محسوس ہوتی ہے۔
اس کے باوجود مجتبیٰ کے انتخاب میں جو کچھ توقف یا تاخیر دکھائی دیتی ہے، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجلسِ خبرگان کے اندر بعض حلقوں کے درمیان کسی نہ کسی درجے کا اختلاف موجود تھا، جس میں ملک کے موجودہ سکیورٹی حالات بھی ایک عامل کے طور پر شامل رہے۔ تاہم مجتبیٰ کی ممکنہ تقرری کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتراض نے مجلسِ خبرگان کے ارکان کے لیے ایک طرح کی اشتعال انگیز فضا پیدا کر دی، اور یوں ردِعمل کے طور پر مجتبیٰ کا انتخاب عمل میں آ گیا۔ اس سارے عمل میں نہ تو یہ واضح کیا گیا کہ اس منصب کے لیے ان کے علاوہ کون امیدوار تھا، نہ ہی انتخابی عمل کے طریقِ کار اور اس کی تفصیلات منظرِ عام پر لائی گئیں، اور نہ مجلسِ نگہبان کے اس موقف کو واضح کیا گیا جس کا کام امیدواروں کی اہلیت کی جانچ کرنا ہوتا ہے۔ امکان ہے کہ اگر آئندہ حالات نسبتاً مستحکم ہوئے تو ان پہلوؤں پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ عسکری و سلامتی محاذ پر کشیدگی کے پھیلتے ہوئے دائرے، اقتدار کے ڈھانچے میں قدامت پسند دھڑے کی مسلسل برتری—خصوصاً مجلسِ خبرگان اور مجلسِ نگہبان میں—اور مجتبیٰ کی تقرری کے خلاف ٹرمپ کا جارحانہ ردِعمل، نیز ریاستی نظام کے طاقت ور اور سخت گیر اداروں کے ساتھ مجتبیٰ کے روابط، یہ تمام عوامل ایسے تھے جنہوں نے ان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔
مجتبیٰ (عمر تقریباً 57 برس) کا اس منصب تک پہنچنا دراصل ایک ایسے سلسلے کی تکمیل ہے جس کی جھلک 2019 میں اس وقت نمایاں ہوئی جب امریکہ نے انہیں پابندیوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ’’ناپسندیدہ شخصیات‘‘ میں شمار کیا۔ 2021 کے بعد ان کی شخصیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ تاہم اگر ایران مجتبیٰ کو رہبر منتخب کرتا ہے تو اس کے جواب میں ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں نے ایک ایسی نفسیاتی فضا پیدا کر دی جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایران اپنے قائدین کے تعین کے معاملے میں بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں؛ چنانچہ اس نے دنیا کے سامنے ایک ایسا رہبر پیش کیا ہے جو بڑی حد تک اپنے والد کی سیاسی روش کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
بعض حلقے مجتبیٰ کی علمی اہلیت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ ان کی تعلیم بنیادی طور پر قم کی حوزۂ علمیہ میں دینی تعلیم تک محدود رہی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے مذہبی مرتبے کے بارے میں بھی یہ بحث سامنے آتی رہی ہے کہ وہ ’’آیت اللہ‘‘ کے بجائے ’’حجۃ الاسلام‘‘ کے درجے پر فائز ہیں۔ تاہم متعدد اشارے یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے حوزوی تعلیم کے آخری مرحلے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ حوزۂ علمیہ میں دینی تعلیم عموماً تین مراحل پر مشتمل ہوتی ہے—جنہیں کسی حد تک بیچلر، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کے مساوی سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا مرحلہ ’’مقدمات‘‘ کہلاتا ہے جس میں زبان، منطق اور بلاغت کی تعلیم دی جاتی ہے؛ دوسرا مرحلہ ’’سطوح‘‘ ہے جس میں فقہ اور اصولِ فقہ کی بنیادی کتب کا مطالعہ کیا جاتا ہے؛ جبکہ تیسرا مرحلہ ’’بحث الخارج‘‘ کہلاتا ہے، جس میں فقہ اور اصولِ فقہ کا مطالعہ مختلف مصادر کی روشنی میں آزادانہ اور تحقیقی انداز سے کیا جاتا ہے۔ یہی مرحلہ طالبِ علم کو درجۂ اجتہاد تک پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ 1989 تک ایران کے آئین میں یہ شرط موجود تھی کہ رہبر کا ’’مرجعِ تقلید‘‘ ہونا ضروری ہے، مگر بعد ازاں اس شرط میں ترمیم کر دی گئی۔ اب یہ کافی سمجھا جاتا ہے کہ رہبر ایک فقیہ مجتہد ہو اور اسے مجلسِ خبرگان منتخب کرے۔ یہ حقیقت بھی معروف ہے کہ علی خامنہ ای جب اس منصب پر فائز ہوئے تو وہ مرجعِ تقلید نہیں تھے، بلکہ آئینی ترمیم کے بعد انہیں یہ منصب حاصل ہوا، اور اس پورے عمل میں سابق ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس طرح مرجعیت کی شرط کے بجائے فقہی اجتہاد کو معیار بنا دیا گیا—اور یہ معیار مجتبیٰ کی دینی اہلیت سے مطابقت رکھتا ہے۔
ایران کا سیاسی نظام بذاتِ خود نہایت پیچیدہ ہے اور اس کی داخلی فضا بھی کم پیچیدہ نہیں۔ یہی پیچیدگی پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے، اور اس میں مزید اضافہ اس وقت ہو جاتا ہے جب عالمی نظام کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جسے بعض مبصرین خود پسند اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بعید نہیں کہ آنے والے عرصے میں خطے کی سیاسی کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے۔
ایران کا سیاسی نظام بذاتِ خود نہایت پیچیدہ ہے اور اس کی داخلی فضا بھی کم پیچیدہ نہیں۔ یہی پیچیدگی پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے، اور اس میں مزید اضافہ اس وقت ہو جاتا ہے جب عالمی نظام کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جسے بعض مبصرین خود پسند اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بعید نہیں کہ آنے والے عرصے میں خطے کی سیاسی کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے۔










