ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ مسترد کر دیا ہے اور اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔
پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔‘
تہران نے اصرار کیا کہ اس کی تمام شرائط پوری ہونے تک اس کی دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایران نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کو صرف اپنی شرائط پر اور اپنے مقررہ وقت کے اندر ختم کرے گا۔
خیال رہے اس سے قبل متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا امریکہ نے بذریعہ پاکستان ایران کو یہ مجوزہ منصوبہ بھیجا ہے۔
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے اسے مزید بتایا کہ واشنگٹن متعدد سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے پروپوزل پیش کر رہا ہے جو ایران کے نزدیک ’حدود سے تجاوز‘ کر رہے ہیں۔اس عہدیدار نے پریس ٹی وی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی پانچ شرائط بھی پیش کی ہیں:
**ایران کی پانچ شرائط یہ ہیں
1-دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتلِ عام‘ کا مکمل خاتمہ
2-ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار
3-جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت
4-خطے میں تمام محاذوں اور ’مزاحمتی گروہوں‘ کے خلاف جنگ کا خاتمہ
5-بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے
شیئر, ایران نے امریکہ کا 15 نکارتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا، جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں
اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ان معاملات سے جڑے نکات درج ہیں:
**امریکی تجاویز کی خاص باتیں
1-ایران پر پابندیوں میں نرمی
2-ایران اور امریکہ کے درمیان سول جوہری تعاون
3-ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے ایران کی نگرانی
4-ایران کے میزائل پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز تک رسائی
اسرائیل کے چینل 12 نے بھی اس 15 نکاتی منصوبے پر تفصیلی خبر چلائی ہے، تاہم واشنگٹن نے ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے۔







