ایران امریکہ تعلقات ایک بار پھر نازک توازن کا سامنا کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل "ایران کو منتشر کرنے اور ملک کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے ایک دانستہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔” صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایران نے حکمت عملی سے صبر کی پالیسی ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران اور امریکہ ایک نئی تصادم کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین کو قتل کرنا بند نہیں کرتا تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کو جواب دینے کے لیے "لاک اینڈ لوڈ” ہے۔
امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے جاری احتجاج کا فائدہ اٹھایا اور ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق کیا تو ایران قبل از وقت حملہ کرے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ حملہ ہونے کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ قبل از وقت کارروائی کر سکتا ہے۔ ایران کی فوج کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خلاف وارننگ جاری کی گئی
6 جنوری 2026 کو تہران ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران اب "سٹریٹجک صبر” سے دور ہو رہا ہے۔ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کوئی نیا حملہ کیا تو ایران اسے اپنی ’’آخری غلطی‘‘ بنانے کے لیے انتہائی موثر اور فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔ ماضی کی طرح کوئی محدود ردعمل نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے عزم کیا ہے کہ کوئی بھی نیا غیر قانونی حملہ حتمی ہونا چاہیے اور اس کے لیے مضبوط ترین آپشنز تیار ہیںایران کی اس پالیسی کو گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران ٹائمز نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ مظاہروں سے ایران کمزور ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ چھوٹے ہیں اور حکومت نے ان پر قابو پالیا ہے۔ اگر دشمن غلطی کرے گا تو ان کے لیے ’’جہنم کے دروازے‘‘ کھل جائیں گے۔








