نئی دہلی: بہار حکومت نے تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کے قریب گوشت اور مچھلی کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے اس قدم کے پیچھے حفظان صحت، بچوں کو ’پرتشدد رجحانات‘ سے بچانے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی دلیل پیش کی ہے۔معلوم ہو کہ بہار حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ریاست کے تمام شہری علاقوں میں گوشت اور مچھلی کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ صرف قانونی اور لائسنسی دکانوں کے ذریعے ہی گوشت اور مچھلی کی فروخت کی اجازت ہو گی
ہندوستان ٹائمز Times کی رپورٹ کے مHidustanطابق، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجئے کمار سنہا-جو شہری ترقیات کی نگرانی بھی کرتے ہیں-نے سوموار (23 فروری) کو کہا کہ بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں، مندروں کے احاطوں اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے عوامی مقامات کے قریب واقع ایسی دکانیں بند کریں۔سنہا نے اس سے ایک دن قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھلے عام گوشت کی فروخت اور استعمال کو نوجوانوں اور بچوں میں ’پرتشدد رجحانات‘ سے جوڑا تھا
جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا، شہری ترقیات اور رہائش محکمہ کے پرنسپل سکریٹری ونئے کمار نے سنیچر کو ریاست بھر کے تمام میونسپل کمشنروں، میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے ایگزیکٹو افسران کو خط بھیج کر لائسنسنگ قوانین کو سختی سے نافذ کرنے اور غیر قانونی و کھلی فروخت کو فوراً ختم کرنےکا حکم دیا ہے سرکاری خط میں کمار نے بتایا کہ کئی بلدیاتی ادارے بغیر اجازت چلنے والی دکانوں کو نظرانداز کر رہے ہیں، جو بہار میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2007 کی دفعہ 345 کی واضح خلاف ورزی ہے
خط میں کہا گیا ہے کہ ’غیر صحت مند حالات میں کھلے عام گوشت فروخت کیا جا رہا ہے، مردہ جانوروں کو عوامی طور پر پیش کیاجا رہا ہے، اور یہ دکانیں مذہبی مقامات، اسکولوں اور مصروف عوامی جگہوں کے بالکل قریب واقع ہیںافسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ مناسب تصدیق کے بعد ہی نئے لائسنس جاری کیے جائیں اور دفعہ 345(4) کے تحت بغیر لائسنس دکانوں کو فوری طور پر سیل کیا جائے
احکامات پٹنہ میونسپل کارپوریشن (گوشت، مچھلی یا پولٹری فروخت) لائسنسنگ رول 2014 کی تفصیلی دفعات پر مبنی ہیں، جن میں صفائی کے معیارات، مقام سے متعلق پابندیاں، لائسنس کی لازمی نمائش اور باقاعدہ معائنہ شامل ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں والوں پر بھاری جرمانہ، دکان سیل کرنا اور پرمٹ منسوخ کرنے جیسی کارروائی کی جا سکتی








