قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملے نے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نے نہ صرف غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو تباہ کیا ہے بلکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے کسی نئے اتحاد کے امکانات بھی مانند پڑ گئے ہیں۔ہیو لواٹ مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یورپین کونسل آن فارن ریلیشنز (ای سی ایف آر) سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس کی مذاکراتی ٹیم پر حملے سے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت یافتہ مذاکرات کو شدید دھچکا لگا ہے۔
جن مذاکرات کاروں سے آپ مذاکرات کر رہے ہیں ان کا قتل کرنا کسی معاہدے پر پہنچنے کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔‘حماس کے رہنما برسوں سے قطر میں مقیم ہیں لیکن اسرائیل نے انھیں پہلی مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔تاہم ہیو لواٹ کے مطابق ’اس خطے میں اسرائیل کا یہ طریقہ کار نیا نہیں ہے۔‘
ہیو لواٹ کہتے ہیں کہ ایسے اسرائیلی اقدامات سے حماس کے اندرونی سٹرکچر میں تبدیلی آئے گی اور اس کے سبب سفارتکاری مزید مشکل ہو جائے گی’اسرائیل واضح طور پر کشادہ نظر لوگوں کو انھیں قتل کر کے کمزور کر رہا ہے۔ اس سے ان سخت گیر عناصر کی بات کو تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل صرف تشدد کی زبان سمجھتا ہے، نہ کہ سفارتکاری کی۔‘ماہرین کے مطابق قطر امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور وہ دو برس سے حماس اور اسرائیل کے درمیان بطور ثالث کام کر رہا ہے اور اس ملک کے اندر حملے سے ایک ایسی مثال قائم ہوئی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔قطر تہران نہیں ہے، بیروت نہیں ہے۔ یہاں امریکہ کا ایک بڑا ہوائی اڈہ موجود ہے اور مغربی سرمایہ بھی لگا ہوا ہے۔‘تاہم لندن کے چیٹھم ہاؤس کے مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ پروگرام سے منسلک ڈاکٹر صنم وکیل کہتی ہیں کہ اسرائیلی حملے سے قطر کی سکیورٹی کو نقصان پہنچا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اتحاد کی کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔قطر اس موقع پر امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم تو نہیں کرے گا لیکن وہ اب غیر یقینی کا شکار ضرور ہو گئے ہیں۔‘ڈاکٹر وکیل کہتی ہیں کہ قطر میں اسرائیلی حملے سے کئی مفروضے بھی اپنے انجام کو پہنچے ہیں۔
’یہ مفروضے ہی تھے کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے اور نہ ایک دوسرے پر حملوں کی توثیق کرتے ہیں۔‘’یہ حقائق کہ امریکہ نے قطر کی خودمختاری پر حملے کی حمایت کی اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ پر اثرات پڑیں گے۔‘رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر ایچ اے ہیلیر اس بات سے متفق نظر آتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب دوحہ اور خطے میں دیگر ممالک ’سوچیں کہ کیا امریکہ کی جانب سے دی گئی سکیورٹی ضمانتیں کوئی معنی بھی رکھتی ہیں یا نہیں، کیونکہ اسرائیل آزادی سے یہ اقدامات لے رہا ہےتاہم ڈاکٹر وکیل کا کہنا ہے کہ ’اپنی سکیورٹی کے لیے قطر کا تمام تر انحصار امریکہ پر ہی ہے، اس سے قطر کے اثر و رسوخ کی حدود نظر آتی ہے۔‘ڈاکٹر وکیل کے مطابق ٹرمپ نے قطر پر حملے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا یا نہیں اس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ امریکہ اسے سفارتکاری کی ناکامی نہیں سمجھ رہا بلکہ اس حملے کو بڑی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔
’معاہدے صرف میز پر بیٹھ کر نہیں ہوتے، آپ لوگوں کو ان کا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ واضح طور پر امریکی صدر دیگر طریقوں سے مذاکرات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر وکیل اور ہیو لواٹ دونوں نے خبردار کیا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملے کے علاقائی نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
عرب حکام اس احساس کے بارے میں فکر مند ہیں کہ اسرائیل اب نہ صرف تیزی سے جارحانہ ہوتا جا رہا ہے ، بلکہ تیزی سے عدم استحکام پیدا کرنے والے انداز میں کام کر رہا ہے، امریکہ یا یورپ کی طرف سے اس پر نہ ہونے کے برابر پابندی ہے۔ڈاکٹر وکیل نے مزید کہا کہ ‘ہم ایک نئی دنیا، نئے خطے، نئے قوانین کے دور سے گزر رہے ہیں۔’پہلے پائے جانے والے مفروضے اب دم توڑ رہے ہیںدونوں تجزیہ کار حتمی طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ منگل کے ڈرامائی واقعات کے دوررس نتائج ہوں گے۔ہیو لواٹ کی رائے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سب سے بڑا شکار صرف اسرائیلی یا فلسطینی نہیں بلکہ یہ خود مغرب کی ساکھ ہو گی۔








