اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جامعہ ملیہ اسلامیہ : دیار شوق، شہر آرزو

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
جامعہ ملیہ اسلامیہ : دیار شوق، شہر آرزو
45
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد آج سے101سال قبل 29؍اکتوبر1920کو ہماری قوم کے کچھ بڑے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے رکھی تھی، ان عظیم قائدین کا ایک خوبصورت خواب تھا جس کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کو مسلمانوں کی تعلیم وترقی کے بنیادی مقصد کے ساتھ اس تاریخی ادارے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کا بنیادی مقصد ملک کے مسلم نوجوانوں کی تعلیم وترقی تھا، تاکہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرسکیں اور یہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جو حکومت وقت کی عوام یا ملک مخالف ہر پالیسی کے خلاف ملک اور اس کے شہریوں کی رہنمائی کرسکے، یعنی یہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جہاں ہر طرح کی غلامی کی مخالفت کرنے والا نوجوان ذہن تیار ہوسکے، ملک و قوم کی رہنمائی اور قیادت کے ان بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیادجمعہ کے دن علی گڑھ کالج کی جامع مسجد میں پڑی، جہاں قوم کے مذہبی قائدمولانا محمود حسن دیوبند سے علی گڑھ آئے اور اس عظیم سفر کی تاریخ رقم کرنے والے نوجوانوں کی رہنمائی کی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام صرف ایک غیر ملکی حکومت کی مخالفت کے لیے نہیں تھا، بلکہ کسی بھی حکومت کی ذہنی غلامی اور اس کے ظلم و استبداد کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے والی ایک نوجوان نسل تیار کرنے کی غرض سے ہوا تھا، چند برس کے بعد 1925میں جامعہ ملیہ علی گڑھ کے خیموں سے نکل کر دہلی کے قرول باغ میں واقع کرایہ کے چند مکانوں میں منتقل ہوا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس سے اس میں ایکٹیو رہنے والوں میں حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اہم ترین افراد رہے جو اس ادارے کو ایک تحریک کی صورت میں آگے بڑھارہے تھے۔1926میں ڈاکٹر ذاکر حسین، مجیب الرحمن اور ڈاکٹر عابد حسین نامی تین اہم افراد کے ہاتھوں میں جامعہ تحریک کی باگ ڈور آگئی۔

1963میں جامعہ کو پروفیسر مجیب الرحمن(وائس چانسلر) اور ڈاکٹر ذاکرحسین کی کوششوں کے بعد ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ ملا اور 1988میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ایک مرکزی یونیورسٹی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ابتدائی تقریباً70سال کے اس پورے مشکل ترین سفر میں کوششوں سے لے کر قربانیوں تک کا سہرا صرف مسلم مذہبی و سیاسی قیادت کے سر ہی باندھا جاسکتا ہے۔1988تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اغراض و مقاصد میں یہ بات جلی حروف میں تحریر تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کی کفالت کرنا ہے، چنانچہ اقلیتی ادارے کا کردار حاصل کرنے کے لیے مستقل کوششیں ہوتی رہیں، آخرکار یہ کوششیں رنگ لائیں اور جسٹس صدیقی کمیشن نے جامعہ کو اقلیتی کردار عطا کردیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی اور معمار مشترکہ قومیت اور سیکولر اقدار کے ماننے والے تھے، اس وجہ سے تمام مذاہب کے طلبا کے لیے جامعہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے والوں کا وژن بہت واضح تھا اور ان کے اغراض ومقاصد بہت صاف طور پر تحریر تھے۔ بہرحال یہ بات حکومتوں کو کہاں ہضم ہوسکتی تھی کہ مسلم اقلیت کے پاس ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جس کی بنیاد میں رکھے گئے ہر ہر پتھر کا مقصد قوم کو سیاسی و سماجی قیادت فراہم کرنا تھا۔

فروری2011میں نیشنل کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات(این سی ایم ای آئی) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو تسلیم کیا تھا، جس کے تحت جامعہ میں پچاس فیصد داخلے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے مختص ہوتے ہیں، پچاس فیصد مختص داخلوں کے اس فیصلے کے خلاف بہت سی پٹیشن دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئیں، پہلے تو کانگریس حکومت نے بھی اقلیتی کردار کی مخالفت کی تاہم بعد میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے حق میں اگست2011میں حلفیہ بیان داخل کیا، تاہم موجودہ مرکزی حکومت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو لے کر اپنی رائے ہمیشہ مخالف ہی رکھی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو اس بنیاد پر ختم کرنا کہ جامعہ کا پورا خرچ مرکزی سرکار اٹھاتی ہے، اس لیے ان کا اقلیتی کردار تسلیم نہیں کیا جاسکتا ایک بے بنیاد دعویٰ ہے، مسلمان بھی دوسرے تمام شہریوں کی طرح اس ملک میں ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقومات کو مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر خرچ کرنا حکومت کی ویسی ہی دستوری ذمہ داری اور فریضہ ہے جیسے حکومت دوسرے اداروں پر خرچ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے مسئلہ پر سنجیدہ اور تعمیری گفتگو کی ضرورت ہے۔

حکومتوں کی سماج و ملک مخالف پالیسیوں کا جواب دینے کے لیے قائم کیا گیا ملک کا یہ تاریخی تعلیمی ادارہ آج ملک کی 40یونیورسٹیوں میں پہلی رینک حاصل کرنے والے ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی برس میں شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) کے خلاف پورے ملک میں ہونے والے احتجاجات کا سرچشمہ بھی یہی ادارہ رہاہے، ملک مخالف سماجی و مذہبی سوچ نیز عوام مخالف سرکاری پالیسیوں سے آزادی کے نعروں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کیمپس گونجتا رہا ہے۔ ملک و بیرون ملک میں ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ہر واقعہ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کی جانب سے ایک مضبوط آواز اٹھتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔

29؍اکتوبر1920کو جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ جن مقاصد کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے الگ ہوکر آزادی کی تحریک کے تحت قائم ہوئی تھی، آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کو ایک صدی سے ایک برس زائد ہوچکے ہیں، آج ہی کے دن اس ادارہ کا قیام برطانوی حکومت کے حکومتی استبداد اور تعلیمی نظام کے خلاف ایک بغاوت کے طور پرہوا تھا، جس تعلیمی نظام اور سوچ کے خلاف ہمارے اسلاف نے کہا تھا کہ سرکاری ادارے اپنے نو آبادیاتی اقتدار کو چلانے کے لیے صرف کلرک بنانے تک مرکوز ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہماری موجودہ حکومتیں بھی انگریزوں کی اسی پالیسی پر گامزن ہیں، اب ہماری حکومتوں کو بھی اپنی پالیسیوں یا سوچ کے خلاف اٹھنے والی کوئی آواز برداشت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اٹھنے والے احتجاجات میں شامل طلبا متعدد مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، الگ الگ پولیس تھانوں میں سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ اپنے موقف اور طریق کار کو لے کر بار بار سوالوں کے گھیرے میں آتی رہی ہے۔15؍دسمبر2019کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والی پولیس بربریت کا شکار جامعہ کے طلبا پولیس کے نہ جانے کتنے جھوٹے مقدمات کا شکار بنائے گئے۔ وائس چانسلر کے خلاف الزامات لگے کہ پولیس کو کیمپس میں داخلہ ان کی اجازت سے ملا، لائبریری میں جس طرح سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے اور جامعہ کی پراپرٹی کو نقصان پہنچایا گیا، اس کے باوجود جامعہ انتظامیہ نے پولیس کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی طلبا کے خلاف جھوٹے مقدمات کے حل میں کوئی تعاون کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ آج ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ایسی امید ہے جہاں ہر اہم موضوع و مسئلے کو لے کرطلبا اپنی ایک رائے رکھتے ہیں، یہ طلبا سماج و قوم کی امیدوں کا آسرا ہیں۔ جامعہ کے نوجوان طلبا نے حالیہ دنوں میں یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور دوسرے قومی سربراہان و ہمدردان کے ذریعے قائم کیے گئے اس ادارے کے اغراض و مقاصد کو بھولے نہیں ہیں، اسلاف کی کاوشوں اور قربانیوں کو وہ رائیگاں نہیں جانے دیں گے، وہ آباواجداد کے اس خواب کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوششیں کریں گے، وہ ایک ایسا سماج بنانے کی کوششیں کرتے رہیں گے جہاں رنگ،نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جائے گی، جہاں قوم کے نوجوان تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد نہ صرف قوم کی بلکہ سماج اور ملک کی بھی رہنمائی و سربراہی کریں گے، جس کی جیتی جاگتی مثال ڈاکٹر ذاکر حسین بذات خود تھے۔

sabbaqsubhani@gmail.com

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN