نئی دہلی :(ایجنسی)
اس بار دیوالی میں دہلی حکومت راجدھانی میں تیاگ راج اسٹیڈیم میں ایک عارضی رام مندر بنانے جا رہی ہے۔ یہ تھرما کول سے بنایا جائے گا اور اس کی اونچائی تقریباً 50 فٹ ہوگی۔بھگوا رنگ کی چھت والے اس مندر کی چوڑائی 110 فٹ کے قریب ہوگی۔ یہ ڈھانچہ ایودھیا میں بننے والے رام مندر جیسا ہی ہوگا۔ دیوالی کے دن اس ڈھانچے کے اندر پوجا کی جائے گی اور پھر پروگرام کے بعد اسے منہدم کردیا جائے گا۔
’دہلی کی دیوالی‘پروگرام میں پوجا، پاٹھ لائیو شو اور رقص کا پروگرام ہوگا۔ اس میں وزیر اعلیٰ ،نائب وزیر اعلیٰ اور دہلی سرکار کے وزراء شامل ہوں گے۔ حکام کےمطابق اس پروگرام میں ایم ایل اے اور ان کااہل خانہ بھی شامل ہو سکے گا،حالانکہ عام لوگوں کی انٹری نہیں ہوگی۔
اس پروگرام کو لے کر دہلی سرکار نے کافی خرچ کیا ہے ۔ یہاں لائٹ اور ساؤنڈ کا پروگرام ہوگا ، اس کے علاوہ ایل ای ڈی لائٹس کی مدد سے رامائن کےمناظر بھی دکھائے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ بھجن اور رقص کا بھی پروگرام ہوگا، حالانکہ اسٹیڈیم کے اندر عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے کورونا کو وجہ بتایا گیاہے۔ تقریب لائیو ٹیلی کاسٹ کی جائے گی ۔
اس پروگرام کی تیاریاں ایک ہفتے سے کی جا رہی ہیں۔ تیاگ راج اسٹیڈیم میں تقریباً 60 لوگ کام کر رہے تھے۔ یہ پروگرام دہلی حکومت کے محکمہ سیاحت کی طرف سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ محکمہ نے یہ کام ایک پرائیویٹ ایجنسی کو سونپا ہے۔منگل کو جائے پروگرام پر پہنچیں آپ لیڈر آتشی نے کہاکہ نہ جانے کیوں اسے ایودھیا کے مندر کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے ۔ یہ مندر تو بس بھگوان رام کی پوجا کے لیے بنایا جا رہاہے ۔
انہوں نے کہا کہ ‘دیوالی ہندوؤں کے لیے بہت اہم تہوار ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہم لوگوں سے یہ بھی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پٹاخے نہ جلائیں۔ لوگ پروگرام میں براہ راست شامل نہیں ہو سکتے اس لئے اس کا ٹیلی کاسٹ کیا جائےگا ۔ گزشتہ سال ایسا ہی پروگرام اکشردھام میں کیا گیا تھا اور اس سے پہلے اسی طرح کناٹ پلیس میں دیوالی منائی گئی تھی ۔







