نئی دہلی:(ایجنسی)
پچھلے سال اپریل کا وقت تھا جب انسانی حقوق کارکن گوتم نولکھا نے بھیما کوریگاؤں معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی ( این آئی اے ) کے سامنے خودسپردگی کی تھی۔
تب سے نولکھا جیل میں ہی ہیں۔ پہلے دہلی کی تہاڑ جیل اور پھر ممبئی کی تلوجا جیل میں۔ اس ماہ کی شروعات میں، 70 سالہ انسانی حقوق کارکن کو پانچ دیگر ملزمان کے ساتھ ممبئی جیل میں ایک ہائی سیکورٹی ’انڈا سیل‘ میں نرانسفر کردیا گیا تھا۔
نولکھا کے ساتھی صہبا حسین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ کارکن کی طبیعت بگڑ ہی رہی ہے ۔ دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق حسین نے بتایاکہ نولکھا کو انڈا سیل سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، جہاں انہیں 12 اکتوبر کو نرانسفر کیا گیا تھا اور فون کال سے بھی محروم کردیا گیا ہے ۔ حسین اورنولکھا کی وکیل پیوشی رائے کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیںہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہے اور سینہ میں گانٹھ ہے ۔
این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں کہا تھا کہ نولکھا کو سی پی آئی (ماؤوادیوں) کی گوریلا سرگرمیوں کے لیے نئے کیڈرز کی بھرتی کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ انہوں نے ایک کشمیری سید غلام نبی فائی جسے ایف بی آئی نے مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے فنڈ لیے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، کے لیے ’معافی ‘ کی مانگ کی تھی ۔







