کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کوصحافی رویش کمار نے قتل عام قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وبا کے دور میں لوگوں نے اپنوں کو بچانے کے لیے سب کچھ کیا، مگر آخر میں ان کے ہاتھ لاش ہی آئی۔توقع تھی کہ ڈھائی مہینوں کی غلطیوں پر بات ہوگی، مگر لوگ گھوم پھر کر وہیں پہنچ گئے اور کتنے مرے… کسی کو معلوم نہیں ہے۔
اتوار (6 جون ، 2021) کو لکھے فیس بک پوسٹ کے ذریعہ ، انہوں نے کہا ،’’عام لوگوں کی زندگی میں نامعلوم کتنے خطرناک تجربات ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ہر کوئی ہماری آپ کی طرح اپنے تجربہ بیان کرنے کے قابل نہ ہوں۔انہیں ہوش بھی نہ رہا ہو کہ کیا ہوا ہوگا۔ دکھ میں ہیں۔ انہیں بولنے کا کوئی مطلب نظر نہیں آتا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں ہمت نہ ہو۔ ڈر ہو کی بولنے سے معلوم نہیںکیا ہو جائے گا۔ ‘‘ انہوں نے آگے کہاکہ ’’لوگ بتائیں کہ کیسے وہ سلنڈر سے لے کر اسپتال میں بیڈ کے لئے بھاگے، کتنوں کو فون کیا، کتنا قرض لیا، کیش کتنا دیا ، سب کچھ جان بچانے کے لیے کیا اور ہاتھ میں لاش آئی۔‘‘
این ڈی ٹی وی کے سینئر صحافی کے مطابق ، ’’ڈھائی ماہ کے اس قتل عام دور کی ہر بات ریکارڈ کرنی چاہئے۔ توقع تھی کہ ہر طبقہ مل کر علاج کی سرکاری طبی نظام کو مکمل کرنے کے لیے دباؤ بنائے گا۔ ان ڈھائی مہینوں کی غلطیوں پر بات کرے گا، جواب دہی طے کرے گا، تاکہ آگے کچھ نہ ہو، لیکن دو ہفتے نہ گزرے کہ لوگ وہیں گھوم پھر کر پہنچ گئے ہیں، کتنے لوگ مرے کسی کو معلوم نہیں ۔‘‘
رویش کمارکے بقول ، حکومت کا تکبر اور خوداعتمادی دیکھئے۔ مرنے والوں کی تعداد کو چیلنج دینے کے لیے اتنی خبریں شائع ہوئیں، مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ سماج کا زوال دیکھئے کہ یہ سوال پوچھنے کی اس میں ہمت نہیں بچی ہے ، صرف ہمت نہیں بلکہ بہتان اور نفرت کی سیاسی مواد کو پڑھتے پڑھتے سوچنے کا کام ہی بند ہو چکاہے ۔
آن لائن جن ستہ ہندی نے لکھاہے کہ رویش کمار کا یہ تبصرہ بنیادی طور پر کورونا کی دوسری لہر کے تناظر میں ہے۔ اپریل اور مئی میں کورونا کے مابین پیدا ہوئے سانس کے بحران کےدوران جب لوگ بدحواس ہوکر ادھر -ادھر بیڈ، آکسیجن ، وینٹی لیٹر اور دوا کے ساتھ شمشان میں لکڑیاں اور جگہ کی تلاش میں مصروف تھے تب موتوں کے اعداد وشمار اور یومیہ کیسز بھی تیزی سے بڑ ھ رہے تھے۔ شمشان اور قبرستان کے درمیان کا فرق بھی ختم ہوگیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا میں بھی بھارت میں کورونا سے ہونے والی موتوں کو لے کر خوب باتیں ہو رہی تھیں، اوپر سے کالا بازاری اور آفات میںاکثر ڈھونڈنے والے بھی کم نہیں تھے، جو چند پیسوں کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے تھے۔
بہرحال کورونا سے ہونے والی اموات کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو بھارت میں یہ ڈیٹا ساڑھے تین لاکھ (پیر صبح آٹھ بجے تک worldometers.infoکے مطابق) کے آس پاس تھا۔ کورونا سےدنیا میں سب سے زیادہ اموات امریکہ میں ہوئی ہیں ، جبکہ بھارت اس معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ برازیل تیسرے ، فرانس چوتھے اور ترکی پانچویں نمبر پر ہے۔
ایک نظر میں دیکھیں کہ دنیا میں کورونا سے اموات پر کہاں کیسا ہے حال












