تل ابیب میں وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہفتے کی شب تل ابیب اور دیگر شہروں میں ہزاروں شہریوں نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیامظاہرین نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو مکمل کرنے اور وہاں موجود باقی اسرائیلی یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا ـ نیتن یاہو حکومت کے غزہ کی پٹی پر جنگ جاری رکھنے کے اصرار کے باوجود زیادہ تر اسرائیلیوں کی رائے مختلف ہے
رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 69 فیصد اسرائیلی غزہ کے تمام قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔
اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق 21 فیصد اسرائیلی ایسے جو معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کان) کے مطابق درجنوں اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں لڑائی میں واپس آنے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ "جنگ سے منسلک اخلاقی اور قانونی مسائل تمام جواز سے باہر ہیں”۔براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے جمعے کے روز انکشاف کیا کہ ان فوجیوں کا تعلق اسرائیلی فوج کے میڈیکل کور سے ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر اعلیٰ عسکری قیادت کو ایک مکتوب بھیجا تھا جس پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکس، دماغی صحت کے اہلکاروں اور نرسوں سمیت مختلف صفوں کے طبی ماہرین نے دستخط کیے تھے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ "دونوں طرف کے شہریوں، اسرائیلی سماجی دھارے اور ملک کی طویل مدتی بقا کو نقصان پہنچارہی ہے”۔سروے میں شامل لوگوں کی اکثریت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کی زمینوں پر قبضہ اور وہاں آباد کاری کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔حتیٰ کہ اسرائیل کے حکمران اتحاد کے حامیوں میں سے 54 فیصد اکثریت نے جنگ بندی کی حمایت کی جبکہ 32 فیصد نے اس تجویز کی مخالفت کی۔