وادی کشمیر میں پہلگام حملے کے 96 دن بعد فوج نے آپریشن مہادیو کے ذریعے تین دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ یہ تصادم سری نگر کے قریب پہاڑ مہادیو پر ہوا۔ سیکیورٹی اداروں نے ڈرون، نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کے ذریعے دہشت گردوں کا سراغ لگایا اور انہیں گھیرے میں لے کر ہلاک کردیا۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد 18 مئی کو پہلگام میں ہوئے حملے میں ملوث تھے۔فوج کے اس آپریشن کو دہشت گردی کا بھرپور جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ خبر میڈیا میں بھائی رہی نیوز پورٹل آج تک کے مطابق اس درمیان جن ادھیکار پارٹی کے لیڈر پپو یادو نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی ایرا، غیرا کو مارکر اسے ‘ماسٹر مائنڈ’ تو نہیں کہا جا رہا ہے؟ پپو یادو نے طنزا کیا کہ مودی جی کا فیس واش کرنا تھا اس لیے ڈائیورزن رچا گیا ـ
**آپریشن مہا دیو پر اٹھائے سوال انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مارے گئے دہشت گردوں کی اصل شناخت اور پہلگام حملے سے ان کے تعلق کے بارے میں واضح معلومات عام کی جائیں۔ پپو یادیو نے سوال اٹھایا کہ جب کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا اعلان ہوتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ ملک کو واضح طور پر بتایا جائے کہ مارا جانے والا شخص کون تھا اور اس کے خلاف کیا ثبوت ہیںجن ادھیکار پارٹی کے لیڈر پپو یادو کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس بیان پر فوج کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔








