اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے متھرا میں کرشنا جنم بھومی معاملہ عوام کی توجہ میں آسکتا ہے۔ اگرچہ بی جے پی یا آر ایس ایس اس معاملے میں براہ راست ملوث نہیں ہوں گے، لیکن سنتوں کے ذریعہ اسے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ بابا باگیشور دھیریندر شاستری کی دہلی سے ورنداون تک کی حالیہ پد یاترا کو اس معاملے سے جوڑا جا رہا ہے۔ سنت برادری بھی اس معاملے میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایودھیا کے ساتھ ساتھ کاشی اور متھرا کے ایشو کی نظریاتی ا حمایت کی ہے۔ ایودھیا مسئلہ بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے اور آر ایس ایس کے سماجی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے، لیکن کاشی اور متھرا کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ حال ہی میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے متھرا معاملے پر واضح کیا کہ ایودھیا کی طرح متھرا بھی سنگھ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، لیکن اگر اس کے رضاکار اس طرح کی تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
ذرائع کے مطابق متھرا معاملے کو آہستہ آہستہ سنتوں اور عوامی بیداری کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔ بابا باگیشور یاترا کے ذریعے بھی بالواسطہ طور پر اس مسئلے کے اثرات کا اندازہ لگایا گیا ۔
عوام اور سنتوں کے ساتھ سیاست داں بھی یاترا میں شامل ہوئے۔ چونکہ متھرا کا مسئلہ بھگوان کرشن کے حوالے سے سنتوں اور عوام کے درمیان بہت حساسیت کا موضوع ہے، اس لیے اسے سماجی طور پر فروغ دینے کا امکان ہے۔ اس میں یادو برادری کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جو خود کو کرشنا کی اولاد مانتی ہے۔ اس سے سماج وادی پارٹی کی سیاسی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، جس کا ایک بڑا حصہ یادو برادری ہے۔
گڈکری بھی متھرا پہنچ گئے۔
سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے منگل کو بارسانہ میں ماتاجی گوشالا کمپلیکس کا دورہ کیا اور گایوں کی خدمت کرکے آشیرواد حاصل کیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے گڈکری نے بارسانہ کے ماتاجی گوشالا کمپلیکس میں گائے کی خدمت کی۔اس موقع پر وہاں موجود بی جے پی کارکنوں، مقامی سنت برادری، مندر کے عہدیداروں اور عقیدت مندوں نے ان کا روایتی انداز میں پگڑی باندھ کر استقبال کیا۔ درشن کے بعد گڈکری گجرات کے مشہور بھگواچاریہ رمیش بابا کی کتھا سننے کے لیے برسانہ گئے۔ یہاں انہوں نے پدم شری رمیش بابا کے ساتھ ایک مختصر روحانی مکالمہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا، "برسانہ نہ صرف عقیدت کی جگہ ہے، بلکہ ایک آندولن کا مرکز بھی ہے۔ یہاں کی روحانی توانائی قوم کی تعمیر میں بھی سمت دے گی۔”








