اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ماں کے خلاف مبینہ بد زبانی کرنے والے مولانا عبداللہ سلیم کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مولانا عبداللہ سلیم کے خلاف اتر پردیش کی ہندو سماج سخت ناراض ہے ـ سے۔ اتر پردیش کے شہروب میں احتجاج ہو رہا ہے۔ مولانا کے خلاف ایک دو نہیں بلکہ 83 شکایتیں درج کی گئی ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ یوپی پولیس مولانا سلیم کو کسی بھی وقت گرفتار کر سکتی ہے۔ ان کے اوپر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے
انڈیا ٹی وی کا کہناہے کہ مولانا عبداللہ سالم کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اب تک 83 تھانوں میں ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ مختلف مقامات پر مولانا کے پتلے پھونکے جا رہے ہیں۔ ایسے میں مولانا کی کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان ہے۔ لکھنؤ میں مولانا سلیم کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں۔
•••کیا ہے سارا معاملہ؟
واضح رہے کہ بہار کے ارریہ ضلع کے مولانا عبداللہ سلیم پر الزام ہے حال ہی میں گاؤ ذبیحہ کے خلاف اتر پردیش میں بنائے گئے قانون کے خلاف بول رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ پر نازیبا تبصرہ کیا جس پر مسلسل ہنگامہ برپا ہے۔ بدھ کو لکھنؤ سمیت اتر پردیش کے کئی اضلاع میں ہندو تنظیمیں بھی احتجاج کریں گی۔
مولانا نے اس طرح کی کسی بات سے انکار کرتے ہوئے اس کی تردید میں سوشل میڈیا پر وضاحتی ویڈیو بھی جاری کیا تھا
یہ بات قابل ذکر ہے کہ علماء حضرات عام طور پر اپنی عوامی تقریروں اور جلسوں میں زبان پر کنٹرول نہیں کرتے اور کچھ بھی کہہ جاتے ہیں اس سے ان کی مانگ اور پیسے دونوں بڑھتے ہیں ، ہو ٹیوب ایسے خطابات سے بھرا پڑا ہے



