بریلی: معروف لیڈر ،اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا، جن کی ‘آئی لو محمد ‘ مہم کی حمایت میں احتجاج کی کال نے پولیس کے مطابق اتر پردیش کے بریلی میں تشدد کو جنم دیا ،۔گرفتار کرلیا گیا اور پھرمولانا توقیر رضا سمیت آٹھ افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔ مزید برآں، پولیس نے بریلی میں تشدد کے سلسلے میں 31 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ مبینہ پتھراؤ کرنے والے دو ہزار افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تشدد کے مقام سے پستول اور پٹرول کی بوتلیں برآمد کرنے کا بھی پولیس نے دعویٰ کیا ہے۔ بریلی بھر میں سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔ فی الحال صورتحال نارمل دکھائی دے رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک دس ایف آئی آر درج کی گئی ہی۔ادھرآج تک کے مطابق اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "کل، بریلی میں ایک مولانا بھول گیا کہ ریاست میں کون برسراقتدار ہے اور سوچتا ہے کہ وہ جب چاہیں نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے واضح کر دیا کہ کوئی ناکہ بندی یا کرفیو نہیں ہوگا۔”یوگی نے کہا کہ ہم نے جو سبق سکھایا ہے وہ آنے والی نسلوں کو فساد سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔
ٹی وی نائن بھارت ورش کے مطابق بریلی میں جگہ جگہ پولیس تعینات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بریلی کے بازار ویران تھے۔ درگاہ اعلیٰ حضرت کی گلی میں بھی پولیس کی بھاری نفری دیکھی گئی جہاں مولانا توقیر رضا کا گھر واقع ہے۔ ہر طرف امن کا راج ہے۔ زیادہ تر دکانیں بند ہیں، اور کوئی بھی جمعہ کے تشدد پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ بریلی میں کل کے تشدد اور بدامنی کے بعد آج کئی تاجروں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) مانوش پاریکھ سے ملاقات کی۔
اسی طرح کا تشدد اتر پردیش کے مئؤ میں نماز جمعہ کے بعد مظاہروں کے دوران ہوا جب پولیس کے مطابق کچھ مظاہرین نے مبینہ طور پر گھر واپس جانے کے لیے کہا جانے پر پتھراؤ کیا۔ اس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا








