بریلی: اترپردیش کے لکھیم پور کھیری کی رہنے والی نورجہاں نام کی ایک لڑکی نے ہندو مذہب اختیار کر کے اپنے عاشق سے شادی کر لی۔ اس نے اپنا نام بدل کر پونم رکھ لیا۔ اس کی ملاقات بریلی کے رہنے والے دھرم پال سے دہلی میں کھلونوں کی فیکٹری میں کام کرنے کے دوران ہوئی۔
پونم (سابقہ نام نورجہاں) نے بتایا کہ وہ دونوں دہلی کے منڈیرا میں کھلونوں کی ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور وہاں کرائے کے کمروں میں رہتے تھے۔ پہلے اس کی دھرم پال کے ساتھ دوستی ہوئی جو آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی۔ وہ ایک دوسرے کو پچھلے پانچ برسوں سے جانتے تھے اور سات یا آٹھ ماہ سے دہلی میں لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہے تھے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں پونم (سابقہ نور جہاں) نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے ہندو دھرم قبول کیا اور ایسا کرنے کے لیے اس پر کسی دباؤ میں نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے سابقہ مسلم شوہر سے طلاق ہو چکی ہے اور وہ حجاب یا برقعہ پہننا پسند نہیں کرتی۔ اس نے کہا کہ وہ پچھلے پانچ برسوں سے ‘بھگوان رام کو مانتی’ ہے، مندروں میں جاتی ہے اور ان کی پوجا کرتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے گھر والے اسے اکثر ڈانٹتے رہتے تھے۔
پونم نے انکشاف کیا کہ اس کے والد کا نام آصف علی ہے اور وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس نے واضح کیا کہ وہ دھرم پال کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ رہی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اس سے شادی کی ہے۔ بریلی پہنچ کر پنڈت کے کے شنکھدھر نے ہندو مذہب کے مطابق اس کا مذہب تبدیل کیا۔ مذہب کی تبدیلی کے بعد اس کا نیا نام "پونم” رکھ دیا گیا۔ بعد ازاں ہندو مذہب کے رسوم و رواج کے مطابق ایک مندر میں پونم اور اس کے عاشق نے شادی کر لی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں کا موقف یا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔سورس:ای ٹی وی بھارت







