ملک کے مختلف حصوں سے وحشیانہ موب لنچنگ کے واقعات سے متعلق خبریں آتی رہتی ہیں ،اخر ان کا کوئی علاج بھی ہے ؟
اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال میں یوم آزادی کے موقع پر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر ایک مسلمان شخص کو تین افراد نے زدوکوب کیا۔واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزموں کی پٹائی کے بعد اس شخص کے خون بہہ رہا ہے۔
انڈین ایکسپریس Indian express کے مطابق، تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ہیٹ کرائم میں زندہ بچ جانے والے کی شناخت رضوان احمد کے طور پر کی گئی ہے، جو اتر پردیش کے سہارنپور کا رہنے والا ہے۔ ملزمان کی شناخت مکیش بھٹ، نوین بھنڈاری اور منیش بشٹ کے طور پر ہوئی ہے۔اپنی پولس شکایت میں احمد نے بتایا کہ جب وہ راکیش لال نامی شخص کی دکان پر چائے پینے گیا تو اسے اندر پہلے سے تین آدمی ملے جو نشے میں لگ رہے تھے۔ ان میں سے ایک مکیش بھٹ نے مبینہ طور پر احمد سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگائے۔ جب احمد نے انکار کیا تو بھٹ اور اس کے دونوں ساتھیوں نے اسے گالی گلوچ، مارپیٹ اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
حملہ آوروں نے مبینہ طور پر احمد کی داڑھی پکڑی، اسے پُرتشدد طریقے سے نشانہ بنایا ، وہ لگاتار چلارہے تھے ، یہ سب کچھ ویڈیو پر حملے کی ریکارڈنگ کے دوران کیا۔انہوں نے اسے ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ اور ’’جئے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔احمد نے بتایا کہ آخرکار وہ دکان کے پیچھے سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگ گیا۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھایا گیا کہ ملزموں کے ذریعے احمد کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور اسے اسلامو فوبک گالیوں کا نشانہ بنایا گیا۔حملہ آوروں میں سے ایک کو یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا کہ وہ یوم آزادی پر "بھارت ماتا کی جئے” کا نعرہ کیوں نہیں لگاسکتا، جب کہ دوسرے نے کہا، "اگر بھارت میں رہنا ہے تو جے شری رام کا نعرہ لگانا ہوگا۔”احمد کی شکایت کے مطابق اس نے حلال اور جھٹکا سے اسے کاٹ ے کی بھی دھمکی دی اپنی شکایت میں احمد نے مزید کہا کہ اسی دن ملزم نے سہارنپور کے ایک اور رہائشی مہتیار پتن اسلام کو بھی نشانہ بنایا اور اسے ’’جئے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
دریں اثنا پوڑی کے سری نگر پولیس اسٹیشن میں ہفتہ کو بی این ایس کی دفعہ 115(2) (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا)، 196 (مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 299 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں)، 351 (2) (مجرمانہ)، 351 (2) امن کی خلاف ورزی پر اکسانا)۔کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔








