علی گڑھ : (ایجنسی)
اترپردیش کے علی گڑھ میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ کپڑوں کی پھیری لگانے والے نوجوان کو ’ جے شری رام‘ نہیں بولنے پر دبنگوں کےذریعہ لاٹھی- ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ اسے زخمی حالت میں ضلع اسپتال میں بھرتی کرایا گیا، بعد میں ڈاکٹروں نے اسے جے این میڈیکل کالج ریفر کردیا۔ معاملے میں پولیس نے ملزم باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا ہے ۔
دراصل علی گڑھ کے ہردوا گنج تھانہ علاقے کے سلہ ویساوان پور علاقے کے رہنے والا عامر خان پھیری لگا کر کپڑا بیچنے کا کام کرتا ہے۔ اتوار شام کو نگلہ کھیم علاقہ میں کپڑے بیچ کر گھر واپس لوٹ رہا تھا ۔ عامر کا الزام ہے کہ وہ جب نگلہ کھیم پہنچا تو کچھ صارفین کو کپڑے دکھانے کےلیے روکا۔ تبھی دو لوگوں نے اس سے نام اور مذہب پوچھا۔
عامر کا کہنا ہے کہ جب اس نے اپنا نام بتایا تو گلوج گلوچ کرتے ہوئے اسے جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے بولا گیا، پھر ایک کیلنڈر لے کر اس میں پیر چھونے کو کہا گیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ اس کی بائک میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی گئی۔
عامر نے اپنے الزام میں کہا ہے کہ اس کے ساتھ لاٹھی- ڈنڈوں سے مار پیٹ کی گئی اور ملزمین نے جے شری رام کا نعرہ لگواتے ہوئے ویڈیو بھی بنایا۔ متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ پورا واقعہ کے دوران اس کا موبائل ار پیسے بھی چھین لے گئے۔ مقامی خاتون نے عامر کو بچانے کی کوشش کی، لیکن غنڈوں نے خاتون کو کنارے کر کے نوجوان کو جم کر پیٹا۔
متاثر ہ کے چچا نے بتایا کہ میرا بھتیجہ عامر کپڑے بیچنے کا کام کرتا ہے۔ نگلہ کھیم میں دبنگوں نے عامر کے ساتھ مار پیٹ کی ہے ۔ گاؤں میں بھیڑ لگ رہی تھی تو ان لوگوں نے بتایا یہ دبنگ لوگ بجرنگ دل کے ہیں ، ایسے ہی مارپیٹ کرتے پھرتے ہیں
۔
متاثرہ فریق نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور کارروائی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد آئی پی سی کی دفعہ 223 اور 307 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے میں ملزم باپ – بیٹے راجو اور دیویش عرف دیویندر کو گاؤں سے گرفتار کر کے امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں جیل بھیج دیا ہے ۔








