حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعہ کے روز لبنانی حکومت کو ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ کے مدِ مقابل آنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت میں لبنان میں "کسی کی جان باقی نہ” بچے گی۔
قاسم نے کہا کہ حزب اللہ اور امل تحریک نے امریکی حمایت یافتہ تخفیفِ اسلحہ منصوبے کے خلاف سڑکوں پر کوئی بھی احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہیں اب بھی لبنانی حکومت کے ساتھ بات چیت کی گنجائش نظر آتی ہے۔لیکن انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی احتجاج لبنان میں امریکی سفارت خانے تک پہنچ سکتا ہے۔
شیخ قاسم نے لبنان کی حکومت پر الزام بھی لگایا کہ وہ گروپ کے تخفیفِ اسلحہ پر زور دے کر ملک کو اسرائیل کے حوالے کر رہی ہے اور خبردار کیا کہ وہ اپنے ہتھیار رکھنے کے لیے لڑیں گے۔قاسم نے ایران کے اعلیٰ سکیورٹی چیف علی لاریجانی سے ملاقات کے بعد ٹیلی ویژن پر خطاب میں گفتگو کی جن کا ملک لبنانی گروپ کا دیرینہ حامی رہا ہے۔اسرائیل کے ساتھ گذشتہ سال جنگ سے حزب اللہ بری طرح کمزور ہو گئی ہے اور لبنانی حکومت نے امریکی دباؤ میں فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ سال کے آخر تک اس گروپ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ تیار کرے۔
ایران جس کے "محورِ مزاحمت” میں حزب اللہ بھی شامل ہے، کو بھی کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حال ہی میں اسرائیل سے جنگ میں امریکہ نے اس کے جوہری مقامات پر حملہ کیا تھا۔
قاسم نے کہا، "حکومت مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے امریکی-اسرائیلی حکم پر عمل درآمد کر رہی ہے خواہ اس سے خانہ جنگی اور اندرونی کشمکش ہی ہو جائے۔”
انہوں نے مزید کہا، "جب تک جارحیت جاری اور قبضہ برقرار رہے گا، مزاحمت اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گی اور اگر ضرورت پڑی تو ہم اس امریکی اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کریں گے خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔”قاسم نے حکومت پر زور دیا کہ "ملک کو کسی حریص اسرائیلی جارح یا لامحدود لالچ کے حامل امریکی جابر کے حوالے نہ کیا جائے۔”









