اسلامی روایات کے مطابق روزہ کھولنے کے لیے کھجور کا استعمال پیغمبر اسلام نے تجویز کیا ہے جبکہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن میں بھی کئی مقامات پر کھجور کا ذکر ملتا ہے۔
لیکن کھجور میں ایسے کیا طبی فوائد موجود ہیں جو روزہ رکھنے والوں کے لیے اسے مثالی خوراک بناتے ہیں
منفرد ’غذائی فوائد‘
جب آپ نے طویل عرصے تک کچھ نہ کھایا ہو، جیسا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک، تو ایسی صورت میں کھجور کی غذائی ساخت انسانی معدے کے لیے اسے ایک بہترین خوراک بناتی ہے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ماہر غذائیت شہناز بشیر کہتی ہیں کہ ’جب آپ روزہ کھولتے ہیں تو آپ کا جسم فوراً گلوکوز بنانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اسے ایندھن کے طور پر اِسی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
کھجور میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دوسری غذاؤں کے مقابلے میں خون میں شوگر کی سطح کو کہیں زیادہ تیزی سے بڑھاتی ہے۔ شہنازبشیر مزید کہتی ہیں کہ ’کھجوریں اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں سادہ شکر بھی ہوتی ہے اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی۔‘کا مطلب یہ ہے کہ یہ پھل کثیر مقدار میں جسم کو توانائی فراہم کرتا رہتا ہے۔ یہ ایسے فرد کے لیے مثالی ہے جس نے طویل عرصے تک کچھ نہ کھایا ہو۔ کھجوریں وٹامن اے، کے اور بی 6 کے ساتھ ساتھ آئرن سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور مختصر وقت میں جسم کو تمام ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا
اگرچہ کھجور ایک خشک پھل ہے مگر اس کے باوجود یہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتی۔
اس میں قدرتی طور پر الیکٹرولائٹ پوٹاشیم ہوتا ہے جو پانی کے لیے ایک مقناطیس کا کام کرتا ہے، اور جسم کے خلیوں کو پانی سے بھر دیتا ہے۔
شہناز بشیر کے مطابق: ’بہت سے لوگ کھجور سے روزہ کھولنے کے ساتھ ساتھ پانی بھی پیتے ہیں۔ یہ توانائی کے ساتھ ساتھ جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے لیے بھی بہترین ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد اکثر اضافی الیکٹرولائٹس لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘
ضرورت سے زیادہ کھانا
رمضان میں کچھ لوگوں کا وزن کم ہو جاتا ہے، لیکن اگر آپ افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھا لیں تو روزہ رکھنا وزن بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
روایتی طور پر بعض مسلمان روزہ افطار ہوتے ہی طاق تعداد (تین، پانچ، سات یا نو) میں کھجوریں کھاتے ہیں اور پھر فوراً مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں، اس کے بعد واپس آ کر کھانا کھاتے ہیں۔جیسے ہی انسانی جسم ریشے دار کھجوروں کو ہضم کرنا شروع کرتا ہے، زیادہ کھانے کی خواہش بھی کم ہو سکتی ہے اور انسان متعدل انداز میں کھانا کھاتا ہے۔شہناز بشیر کہتی ہیں کہ ’یہ (کجھور) آپ کے جسم کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ اسے واقعی کچھ غذا مل چکی ہے اور ہاضمے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔‘
ہاضمہ:روزہ رکھنے والے مسلمانوں میں قبض اور پیٹ پھولنے کی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام دنوں میں کھانا پینا پورے دن جاری رہتا ہے تو آنتیں بھی حرکت میں رہتی ہے، جبکہ طویل روزے کے دوران یہ عمل سست پڑ جاتا ہے۔
کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے، جو فضلے کو آنتوں کے ذریعے آسانی سے گزرنے میں مدد دیتا ہے۔برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس تجویز کرتی ہے کہ روزانہ 30 گرام فائبر کھایا جائے۔
شہناز بشیر کا کہنا ہے کہ ’کبھی کبھی رمضان میں ہمیں سادہ کاربوہائیڈریٹس کی خواہش ہوتی ہے لیکن اگر ہم منصوبہ بندی سے کھانا پکائیں تو اس میں فائبر کی موجودگی یقینی بنا سکتے ہیں










