نئی دہلی: بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی نے حال ہی میں ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی پر حملوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں رشدی نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی امیج کو لے کر اور ہندوستانی ادیبوں، صحافیوں اور ماہرین تعلیم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔رشدی نے انٹرویو میں کہا،’میں اس بارے میں بہت فکر مند ہوں۔ ہندوستان میں میرے بہت سے دوست ہیں۔ ہر کوئی صحافیوں، ادیبوں، دانشوروں، پروفیسروں وغیرہ کی آزادی پر ہونے والے حملوں کے بارے میں فکر مند
انہوں نے کہا کہ ملک کی پہچان کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے
ایسالگتا ہے کہ ملک کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی خواہش ہے، بنیادی طور پر یہ کہنے کے لیے کہ ہندو اچھے ہیں اور مسلمان برے ۔وی ایس نائپال نے ایک بار اسے ‘زخمی تہذیب’ کہا تھا، یہ خیال کہ ہندوستان ایک ہندو تہذیب ہے جو مسلمانوں کی آمد سے زخمی ہوئی ۔ اس سوچ کوبہت زیادہ بڑھاوا مل رہا ہے دہائیوں پہلے اپنے بیانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ مصنف ہیں، اگر آپ توجہ دیتے ہیں، تو کبھی کبھی آپ چیزوں کو آتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ میں یہی کر رہا تھا، میں توجہ دے رہاتھاـب رشدی کےبیان کا سیاق و سباق یہ ہے کہ انہوں نے کئی دہائیوں پہلے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، نفرت اور آزادیوں پر حملوں کو بھانپ لیا تھا
واضح رہے کہ رشدی پر 1988 میں دی سٹینک ورسزکی اشاعت کے بعد سے ایران کے جاری کردہ فتوے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خطرہ دوبارہ اگست 2022 میں پرتشدد شکل میں سامنے آیا، جب مغربی نیویارک میں ایک لیکچر سے عین قبل ان پر حملہ کر کے زخمی کر دیا گیا۔ حملے سے صحت یاب ہونے کے بعد مصنف کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی اور اب وہ اپنا ایک ہاتھ بھی استعمال کرنے سے








