ایران پر ممکنہ امریکی حملے نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا موڑ لے لیا ہے۔ سعودی عرب خفیہ طور پر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں نجی بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عمل نہیں کیا تو ایرانی حکومت مزید مضبوط ہو جائے گی۔ذرائع کے حوالے سے امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بریفنگ وائٹ ہاؤس میں ہوئی جس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے شرکت کی۔ اجلاس کا اہم ایجنڈا ایران پر ممکنہ امریکی حملہ اور اس کے علاقائی مضمرات تھا۔
سعودی عرب کا یہ موقف اہم ہے کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ریاض نے عوامی طور پر تحمل اور سفارت کاری کی وکالت کی ہے۔ صرف تین ہفتے قبل، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو علاقائی جنگ کے خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا، جس سے امریکہ نے حملہ ملتوی کر دیا تھا۔ لیکن اب سعودی قیادت کے اندر سوچ میں تبدیلی واضح ہے۔
ایم بی ایس نے امریکہ کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا۔یہاں تک کہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ پابندی پہلی بار اپریل 2025 میں لگائی گئی تھی، جب امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بعد میں اسے دوسرے ایئربیس استعمال کرنا پڑے۔ اب جب ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
بند دروازوں کے پیچھے سعودی امریکہ ملاقاتحالیہ اطلاعات کے مطابق شہزادہ خالد نے بند کمرے کی ملاقاتوں میں کہا کہ اگر امریکا انخلا کرتا ہے تو اس سے ایران کو پیغام جائے گا کہ وہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اس سے تہران کو حوصلہ ملے گا اور خطے میں مزید جارحانہ موقف اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے علاقائی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ ہو گا۔
اس ساری پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف سعودی عرب کی حکمت عملی اس کے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ سخت ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے آنے والے دنوں میں شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں…








