قاسم سید
‘جو بادہ خوار ہیں وہ اٹھتے جاتے ہیں’ سینئر بزرگ صحافی اور معروف طنزومزاح نگار جناب اسد رضا نقوی نے دہلی کے ایک اسپتال میں آج (یکم فروری 2926) آخری سانس لی ۔ان کی عمر 74 سال تھی۔ ۔ان کا آبائی وطن بجنور تھا ۔ انھوں نے دہلی میں سوویت جائزہ میں نوکری سے اپنا صحافتی کریر شروع کیا ، کچھ وقت ہفت روزہ ” نئی دنیا” میں بھی رہے ، روزنامہ راشٹریہ سہارا سے وہ اس کے اجرا کے اول روز سے ہی جڑگئے تھے
مرحوم اخبار کے پہلے گروپ ایڈیٹر جناب عزیز برنی کے بہت عزیز اور ان کے دست راست تھے،سہارا سے ان کی رخصتی کے بعد(آنجہانی) سہارا شری سبرت رائے سہارا کی نظر انتخاب ان پر ہی پڑی ـ چنانچہ مرحوم ایک سال سے زائد عرصے "روزنامہ راشٹریہ سہارا "کے مکمل اختیارات کے ساتھ گروپ ایڈیٹر رہے۔اور اس دوران بہت سلیقہ سے اخبار چلایا ،وہ مزاجا حلیم الطبع،ہنس مکھ اور بزلہ سنج تھے ،باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ، رکھ رکھاؤ کے قائل نہیں تھے، پابندی سے کالم لکھتے تھے ۔عزیز برنی صاحب نے اپنے دور میں اسٹاف کے لوگوں کو لکھنے کا بھرپور موقع دیا اور شناخت بھی ـ مجھے بھی اسد رضا صاحب کے ساتھ کام کرنے موقع ملا اور یہ ساتھ کم وبیش پندرہ سال پر محیط ہے ـ ہنیادی طور پر اسد رضا طنز ومزاح کے آدمی تھے ،تحریریں خوشگوار ہونے کے ساتھ ہلکا سا طنز اور مزاح کا امتزاج ہوتی تھیں، ان کے طنز ومزاح پر مشتمل مضامین کے کئی خوبصورت گلدستے شائع ہوکر مقبول عام ہوچکے ہیں اس کے ساتھ اسد رضا شاعر بھی تھے ،مشاعروں میں شرکت کرتے تھے ، ان کی شاعری حالات کی بھرپور عکاس تھی ,انہیں ریڈیو پروگراموں میں باقاعدگی سے بلایا جاتا اور وہ مایوس نہیں کرتے
بہرحال ان دنوں قدرےگمنام زندگی گزار رہے تھے ،اہل خانہ کے مطابق اخری رسومات آبائی وطن میں ادا کی جائیں گی وہ اپنے پیچھے نہ جانے کتنے سوگواروں کو چھوڑگیے ہیں،ایسےلوگ بہت کم ہیں جو غموں کو مسکراہٹ میں چھپانے کا ہنر جانتے ہیں ـاسد رضا اسی قبیلہ کے سردار تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ،آمین








