جائزہ :اعظم شہاب
ملک کی پارلیمان میں ان دنوں عجیب سی بے چینی اور غصے کی لہریں محسوس کی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں جو تقریر کی، وہ ان کے روایتی دبنگ لہجے سے کوسوں دور ایک جھنجھلائے ہوئے انسان کی فریاد معلوم ہو رہی تھی۔ عام طور پر مودی جی کے بارے میں یہ تاثر رہا ہے کہ وہ حالات کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں، لیکن اس بار ان کا ’’آؤٹ آف سنک‘‘ ہونا سب پر عیاں تھا۔ لوک سبھا میں تو سیکیورٹی کے نام پر تقریر سے بچنے کی راہ نکالی گئی، مگر راجیہ سبھا کے میدان میں جب وہ اترے تو ان کے الفاظ سے خود اعتمادی کی جگہ بے بسی جھلک رہی تھی۔ اپوزیشن تو اسے ’’دم دبا کر بھاگنا‘‘ قرار دے رہی ہے، جبکہ سرکاری حلقے دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہیں۔ اس کیفیت کے پیچھے صرف ایک جذباتی لہر نہیں ہے بلکہ پانچ ایسے ٹھوس عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے مودی جی کی ذہنی یکسوئی کو درہم برہم کر دیا ہے اور انہیں ایک ایسی نادیدہ ناہمواری میں دھکیل دیا ہے جہاں سے وہ باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی اس جھنجھلاہٹ کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ جنرل ایم ایم نروانے کی وہ حالیہ کتاب ہے جس نے ’’قوتِ ارادی‘‘ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ وہ آئینہ ہے جس نے سرحدوں کی حفاظت کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس سے قبل ستیہ پال ملک جیسے سیاسی رہنما جب سچائی بیان کرتے تھے، تو سرکاری مشنری انہیں بدنام کر کے بات دبانے میں کامیاب ہو جاتی تھی، لیکن جب ایک سابق فوجی سربراہ قلم اٹھاتا ہے تو قوم کا اعتماد اس کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اس ملک میں فوج کا پیشہ سب سے زیادہ معتبر مانا جاتا ہے۔ جنرل نروانے نے انکشاف کیا کہ جب چینی افواج ہماری سرحدوں میں گھس آئی تھیں اور ملک کو ایک فوری فیصلے کی ضرورت تھی، تو دہلی کا ایوانِ اقتدار ڈھائی گھنٹے تک گونگا اور بہرا بنا رہا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لیڈرشپ کو سامنے آ کر حکم دینا تھا، مگر وہاں سے صرف خاموشی اور ابہام برآمد ہوا۔ جب راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اس کتاب کا حوالہ دیا، تو مودی جی کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہ تھا، کیونکہ اس خاموشی نے ان کے ’گھر میں گھس کر مارنے‘ والے بیانیے کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔
دوسرا محاذ جہاں مودی حکومت کو سبکی کا سامنا ہے، وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی ’ٹریڈ ڈیل‘ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے کئی ماہ سے جس انداز میں ہندوستانی قیادت کو زچ کر رہے ہیں، وہ کسی بین الاقوامی تذلیل سے کم نہیں ہے۔ ٹرمپ نے برملا یہ کہا کہ انہوں نے ہندوستان کو اپنی شرائط پر جھکایا ہے اور مودی جی میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس کی تردید کر سکیں۔ یہ سوداگری بھی بڑی عجیب رہی، کبھی 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی گئی تو کبھی ’پنیشمنٹ ٹیرف‘ یعنی سزا کے طور پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کی گئی۔ بالآخر جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس ڈیل کا اعلان کیا، تو یہ بات واضح ہو گئی کہ ہندوستان اب امریکی مصنوعات کے لیے ایک ایسی منڈی بن چکا ہے جہاں ٹیکس کی شرح صفر ہوگی، جبکہ ہندوستانی مال پر 18 فیصد ٹیکس رہے گا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خسارے کے سودے پر بھی بی جے پی دفتر میں قد آدم ہار پہنا کر جشن منایا گیا، لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ امریکی کسانوں کے لیے ہندوستان کے دروازے کھول کر ملک کے اپنے کسانوں کو معاشی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ اب پیوش گوئل جیسے وزراء ڈیمیج کنٹرول کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔
تیسری بڑی پریشانی کا نام ’ایپسٹین فائلز‘ ہے، جس نے اقتدار کے ایوانوں میں ایک نیا تلاطم برپا کر رکھا ہے۔ اگرچہ براہِ راست کوئی تصویر یا ثبوت مودی جی کے خلاف سامنے نہیں آیا، مگر ان کے قریبی وزراء اور دوستوں کے ناموں کی گونج نے حکومت کے اخلاقی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہردیپ پوری جیسے وزراء کے بارے میں جو انکشافات ہو رہے ہیں، وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک ایسے شخص سے اتنی قربت کیسی جو کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا؟ جب حکومت سے اس پر سوال کیا جاتا ہے، تو جواب میں نہرو اور اندرا گاندھی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کا پرانا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ یہ دراصل اپنی ناکامی چھپانے کا ایک بھونڈا انداز ہے۔ جب اپوزیشن کے سوالات چبھنے لگے تو ماضی کے مردِ آہن سمجھے جانے والے رہنماؤں کی کردار کشی شروع کر دی گئی تاکہ عوام کی توجہ اصل فائل سے ہٹائی جا سکے۔ مگر سبرا منیم سوامی جیسے لوگ اب گھر کے بھیدی بن کر وہ کچا چٹھا کھول رہے ہیں جسے سنبھالنا مودی جی کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
چوتھی وجہ جو مودی جی کے اعصاب پر سوار ہے، وہ ان کے ’سہودر‘ یعنی دل کے ٹکڑے اڈانی کی موجودہ حالتِ زار ہے۔ اڈانی اور مودی کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھا جاتا ہے اور جب اڈانی کی گردن ٹرمپ کے شکنجے میں آتی ہے، تو تکلیف دہلی کے وزیر اعظم ہاؤس میں محسوس ہوتی ہے۔ امریکی عدالتوں اور ایجنسیوں نے جس طرح اڈانی کا ٹِٹوا دبایا ہے، اس نے مودی سرکار کے معاشی ماڈل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اڈانی اس وقت جس کرب میں ہیں اور جس طرح لاکھوں کروڑوں کا نقصان اٹھا کر امریکی وکلاء کے قدموں میں گر رہے ہیں، اس نے مودی جی کی ذہنی سکون غارت کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ایل آئی سی کے ذریعے عوام کا پیسہ بچانے کی کوششیں بھی اب رنگ نہیں لا رہیں۔ جب آپ کا سب سے قریبی کاروباری شراکت دار عالمی سطح پر چور ثابت ہو رہا ہو، تو آپ کے چہرے کی رونق برقرار رہنا ناممکن ہے۔ یہ وہ شخصی اور معاشی غم ہے جو مودی جی کی تقریروں میں تلخی اور غصے کی شکل میں باہر نکل رہا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اڈانی کا ڈوبنا ان کی اپنی سیاست کے ڈوبنے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
پانچواں اور اہم ترین سبب یہ ہے کہ اب مودی حکومت کو مستقبل کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ معیشت کا حال یہ ہے کہ قرض کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب صرف 2047 کے خواب دکھانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی عملی حل نہیں بچا۔ بجٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار خود پکار رہے ہیں کہ ملک ایک گہرے مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ہم تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ جہاں پہلے صرف پاکستان اور چین سے خطرات تھے، وہاں اب بنگلہ دیش جیسے دوست ملک سے بھی دشمنی مول لے لی گئی ہے۔ مودی جی جس ’عالمی ڈنکے‘ کا ذکر کرتے تھے، وہ اب صرف اپنی ہی گلی میں بجنے والا ایک شور بن کر رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا وقار اس وقت داؤ پر لگا ہوا ہے جب ہمیں امریکی ڈکٹیشن پر روس سے تیل کی خریداری بند کرنے جیسے فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ بے سمتی اور ہر طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ مودی جی کو ایک ایسی بند گلی میں لے آیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی باعزت راستہ موجود نہیں ہے۔
سیاست کی اس بساط پر ایک اور پہلو جو وزیر اعظم کو مسلسل پریشان کر رہا ہے، وہ ووٹوں کی ہیرا پھیری اور انتخابی نظام پر اٹھنے والے سوالات ہیں۔ گیانیش کمار جیسے افسران کے ذریعے ووٹ کاٹنے اور فہرستوں میں تبدیلی کرنے کے جو الزامات لگ رہے ہیں، ان کی پول پٹی اب آہستہ آہستہ کھل رہی ہے۔ اگرچہ پوری سرکاری مشینری ان کے قبضے میں ہے اور وہ ہر سطح پر مینیپولیشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اب عوام بیدار ہو چکے ہیں۔ جب دھاندلی کا طریقہ کار بے نقاب ہو جائے تو اگلا الیکشن جیتنا اتنا آسان نہیں رہتا جتنا ماضی میں رہا ہے۔ یہ خوف کہ کہیں ان کا ’ماسٹر اسٹروک‘ اس بار ناکام نہ ہو جائے، انہیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ راستہ نہ سجھائی دینے کی یہ کیفیت کسی بھی ملک کے سربراہ کے لیے خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ جب کپتان خود سمت سے بے خبر ہو تو جہاز کا ڈوبنا یقینی ہو جاتا ہے۔ مودی جی کی چڑچڑاہٹ دراصل اسی سیاسی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے جس میں وہ بری طرح گھر چکے ہیں۔
مودی جی کی یہ مشکلات محض ان کی ذاتی نہیں بلکہ اب اس ملک کی مشکلات بن چکی ہیں۔ جب ایک طاقتور لیڈر اپنی کرسی بچانے کے لیے ملک کے کسانوں، سرحدوں اور وقار کا سودا کرنے لگے، تو قوم کو سوچنا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اگلے 25 سال تک کرسی نہیں چھوڑیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت ذہنی اور سیاسی تھکن کا شکار ہیں۔ شاید ان کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ کچھ وقت کے لیے ہمالیہ کی غاروں میں بیٹھ کر تپسیا کرتے اور اپنی غلطیوں پر غور کرتے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اقتدار کس کے حوالے کر کے جائیں؟ انہیں ڈر ہے کہ جس کو وہ جانشین بنا کر جائیں گے، وہی شاید انہیں واپس نہ آنے دے۔ یہ بے اعتباری اور خوف مودی دور کے خاتمے کی وہ تحریر ہے جو اب دیوار پر لکھی جا چکی ہے۔ ملک کو اب نئے وژن اور حقیقی قیادت کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے اشتہاری بیانیے کی جو تفرقات اور نفرت کی بنیاد پر کھڑا ہو۔











