اردو
हिन्दी
مئی 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملکی تناظر میں تحفظ ایمان ایک بڑا چیلنج

4 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
Protecting Faith National Challenge
6
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا ذکی نور عظیم ندوی لکھنؤ
توحید وہ عظیم نعمت، بیش بہا سرمایہ اور لازوال حقیقت ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو پہچانے، اس کی معرفت حاصل کرے اور اس کی وحدانیت پر ایمان و یقین رکھے۔ یہ یقین راسخ کرے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق، مالک، رازق اور مدبّر ہے؛ وہی عبادت کے لائق ہے، اسی کے لیے جھکنا، اسی سے مانگنا اور اسی پر بھروسا کرنا اصل بندگی ہے۔ یہ محض ایک ایسا عقیدہ نہیں جو صرف دل میں ہو، بلکہ زندگی کا وہ مرکز ہے جس کے گرد ایمان، عمل، اخلاق اور معاشرت سب گردش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے صاف اعلان فرمایا کہ جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت توحید و اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔ رسالتِ محمدی ﷺ اسی عالمی دعوت کی آخری اور کامل صورت ہے، جس میں توحید کو نہایت وضاحت، جلال اور حکمت کے ساتھ انسانیت کے سامنے رکھا گیا۔
انسان دنیا میں بے شمار رشتوں اور حقوق کے اردگرد زندگی گزارتا ہے: ماں باپ کے حقوق، اولاد کے فرائض، ملک و ملت کے مسائل، خاندان، پڑوس اور سماج کے تقاضے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حق کو سب پر فوقیت حاصل ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اور اس کی عبادت میں کسی غیر کو دخل نہ دیا جائے۔ کلمۂ طیبہ ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ اسی حقیقت کا جامع اعلان ہے، جو ایک طرف باطل معبودوں کی مکمل نفی کرتا ہے اور دوسری طرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی الوہیت کا اثبات۔ یہ کلمہ انسان کو ہر جھوٹے سہارے، خود ساختہ خدا، نفسانی غلامی اور ہر طرح کی غیر ضروری مصلحتوں، نیز بڑے سے بڑے مفاد یا خطرات و نقصانات کے اندیشوں سے آزاد کر کے براہِ راست ربِ کائنات سے پوری مضبوطی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
توحید ہی وہ محور ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے سب سے پہلے اسی پیغام کی صدا بلند نہ کی ہو۔ رسالتِ محمدی ﷺ بھی اسی عالمگیر دعوت کا نقطۂ عروج ہے۔ آپ ﷺ نے جہاں بھی دعوت کا آغاز کیا، توحید کو بنیاد بنایا۔ معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے وقت یہی تاکید فرمائی کہ سب سے پہلے لوگوں کو توحید کی طرف بلانا، کیونکہ یہی اصلاحِ فرد اور تشکیلِ معاشرہ کا پہلا زینہ ہے۔ قبر میں پہلا سوال بھی رب کی معرفت سے متعلق ہوگا، اور قیامت کے دن بھی انسان سے یہی پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے اور رسولوں کو کیا جواب دیا۔
توحید ہی وہ پہلی شرط ہے جس کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اخلاق اور خدمتِ خلق اسی وقت قابلِ قبول ہیں جب ان کی جڑ میں اخلاص اور توحید ہو۔ قرآن اس حقیقت کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتا ہے کہ ایمان کے بغیر کی گئی کوششیں رائیگاں ہیں، اور ایمان کی روح توحید ہے۔ توحید بندے کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے، اسی سے برائیاں اور گناہ مٹتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ احادیث میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ خالص توحید جنت میں داخلے کا سب سے بڑا سبب اور جہنم سے نجات کی مضبوط ضمانت ہے۔
توحید انسان کو ایک منفرد اور عظیم قوت، اطمینان اور توازن عطا کرتی ہے۔ اس دولت سے یہ یقینِ جازم پیدا ہوتا ہے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت، زندگی و موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں؛ اس لیے وہ مخلوق کے خوف، لالچ اور دباؤ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہی آزادی اسے باہمت، باوقار اور اصول پسند بناتی ہے۔ مشکلات اور مصائب میں یہ دل کو سہارا دیتی ہے، اور دکھ و آزمائشیں ہلکی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ قرآن کے مطابق حقیقی امن و اطمینان اور ہدایت انہی لوگوں کو ملتی ہے جنہوں نے اپنے ایمان کو شرک کی آمیزش سے پاک رکھا۔
ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں توحید کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہبی تنوع، رسوم و رواج کی کثرت اور صدیوں پر محیط تہذیبی اختلاط ہے، وہاں توحید کی خالص تعلیم کو محفوظ رکھنا مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اسلام کے تحفظ و بقا کی توقع بھی توحیدِ خالص پر ثابت قدمی کے بغیر آسان نہیں، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہالت، اندھی عقیدت اور غیر اسلامی اثرات توحید کے مضبوط تصور کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ آج ہندوستانی مسلمان شدید سماجی، معاشی اور فکری دباؤ کا شکار ہیں؛ ایسے ماحول میں توحید ہی وہ مرکز ہے جو ان کی دینی شناخت کو استحکام بخش سکتا ہے۔
افسوس کہ آج توحید کو صرف عوامی سطح پر ہی خطرات لاحق نہیں، بلکہ قیادت کے ایوانوں میں بھی ہلچل پائی جاتی ہے۔ اب یہ صورتِ حال کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ بعض ملی، دینی اور تعلیمی رہنما جمہوری مصلحتوں، ادارہ جاتی مفادات، فنڈنگ کے دباؤ اور سماجی مقبولیت کی خاطر عقیدۂ توحید پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کہیں خاموشی کو حکمت کا نام دیا جاتا ہے، کہیں ’’بین المذاہب ہم

آہنگی‘‘ کے نام پر اصولی حدود کو پامال کیا جاتا ہے، اور کہیں اس حد تک معاملہ پہنچ جاتا ہے کہ شرکیہ افکار و رسوم پر تنقید کو تنگ نظری اور انتہا پسندی قرار دے کر کسی قسم کی شرم و عار بھی محسوس نہیں کی جاتی۔
یہ رویّہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک نہایت سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جب قیادت ہی فکری ابہام کا شکار ہو جائے، اور تعلیمی و ملی ادارے عقیدے کی وضاحت کے بجائے ایسی مفاہمت کی راہ اختیار کریں جو اصولوں کو کھوکھلا کر دے، تو اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔ نتیجتاً نئی نسل اسلام کو ایک مضبوط عقیدے کے بجائے ایک مبہم ثقافتی شناخت کے طور پر دیکھنے لگتی ہے، شرک اور توحید کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے، اور دین رسموں اور تقریبات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
لوگوں کو اس ابدی حقیقت سے منہ نہیں موڑنا چاہیے کہ شرک وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر توبہ کے ناقابلِ معافی قرار دیا ہے۔ یہ سب سے بڑا ظلم ہے، کیونکہ اس میں خالق کے اختیارات مخلوق میں تقسیم کر دیے جاتے ہیں، اور خالق کے مقابلے میں کسی اور کو اہمیت دینے کا مزاج پروان چڑھتا ہے، جو رفتہ رفتہ شرک تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ شرک کے مفاسد، برے انجام اور دنیوی و اخروی نقصانات ناقابلِ تصور حد تک خطرناک ہیں۔ ایسا شخص خواہ عبادات میں مشغول ہو، مگر اس کا انجام محرومی کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ شرک تمام اعمال کو ضائع کر دیتا ہے، انسان سے روحانی امن چھین لیتا ہے، دل کو خوف اور وہم میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اسے ذلت کی گہرائیوں میں گرا دیتا ہے۔ یہ وہ گناہ ہے جو انسان کو عزت کے مقام سے گرا کر بے بسی اور رسوائی کی حالت تک پہنچا دیتا ہے۔
لیکن یہ پہلو نہایت افسوس ناک ہے کہ مسلم معاشروں میں، بالخصوص ہندوستان میں، مسلم قیادت نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کی ذمہ داری تھی۔ دینی قیادت ہو یا تعلیمی، سماجی و سیاسی رہنمائی—اکثر توحید کے خالص اور جرات مندانہ تصور کو نظر انداز کیا گیا۔ عوامی مقبولیت، وقتی مصلحت یا سماجی دباؤ کے تحت شرکیہ رسوم پر خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں دین کا تصور بگڑتا چلا گیا، عقیدہ رسم میں بدل گیا اور عبادت عادت بن کر رہ گئی۔ جب قیادت خود فکری وضاحت اور عقیدۂ توحید میں کمزور پڑ جائے تو عوام کا حال اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی مسلمان دوبارہ توحید کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنائیں، اور ان کی دینی، تعلیمی اور ملی قیادت توحید کو اپنے فکری و عملی ایجنڈے میں دوبارہ اولیت دے۔ شرک کی ہر شکل سے واضح اور باوقار براءت اختیار کی جائے، مصلحت اور مداہنت کے فرق کو سمجھا جائے، حکمت کے نام پر خاموشی کو معمول نہ بنایا جائے، اور قوم کو یہ پیغام دیا جائے کہ عقیدہ وہ سرخ لکیر ہے جس پر نہ کل سمجھوتہ جائز تھا اور نہ آج ہے۔ اسی کے ساتھ نئی نسل کو اعتماد، حکمت اور بصیرت کے ساتھ وہ خالص اسلامی عقیدہ منتقل کیا جائے جو قرآن و سنت نے عطا کیا ہے، کیونکہ توحیدِ خالص اور ایمانِ جازم مسلمانوں کی دینی بقا، اجتماعی وقار اور دنیا و آخرت کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں، اور اسی سے وہ بحران ختم ہو سکتا ہے جو آج خاموشی اور فکری کمزوریوں کی صورت میں دن بہ دن گہرا ہوتا جارہا ہے۔
zakinoorazeem@gmail.com

ٹیگ: Faith ProtectionIndia NewsNational DebateReligious IssuesSocial Concernsتحفظِ ایمانسماجی خدشاتقومی چیلنجمذہبی مسائل

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
گراؤنڈ رپورٹ : کیا جہانگیر پوری میں جن کے گھر ٹوٹے وہ روہنگیا ہیں؟

گراؤنڈ رپورٹ : کیا جہانگیر پوری میں جن کے گھر ٹوٹے وہ روہنگیا ہیں؟

اپریل 28, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN