حیدرآباد: ریاست میں کانگریس حکومت نے اتوار، 29 مارچ کو، اہم قدم اٹھاتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں "تلنگانہ نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم (روک تھام) بل، 2026” پیش کیا، جس میں متعلقہ جرائم کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا تجویز کی گئی۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی طرف سے عرصہ دراز سے ایسا قانون بنائے کا مطالبہ کیا جارہا تھا ،چومکہ کانگریس کو ایوان میں اکثریت حاصل ہے اس لیے بل کی منظوری کا پورا امکان ہے
۔ ریاستی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈی سریدھر بابو نے یہ بل چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ایماء پر اسمبلی میں پیش کیا ۔ اگر یہ بل منظور ہوجاتا ہے تو تلنگانہ ایسا قانون منظور کرنے والی کرناٹک کے بعد دوسری ریاست بن جائے گی ۔ اس بل میں گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ جو کوئی نفرت پر مبنی جرم کا ارتکاب کریگا اسے کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا ہوگی اور پچاس ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ اگر اس جرم کا بارہا اعادہ کیا جاتا ہے تو کم از کم دو سال قید کی سزا ہوگی اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید کی سزا اور دو لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔
بل میں گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم ناقابل ضمانت ہونگے ۔ سریدھر بابو نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو موجودہ قوانین ہیں ان سے نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام میں کامیابی نہیں مل رہی ہے ایسے میں نئے قانون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جاسکے اور ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں دلائی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعہ متاثرین کو مدد بھی مل سکتی ہے ۔ تلنگانہ کابینہ نے 23 مارچ کو منعقدہ ایک اجلاس میں اس قانون کے مسودہ کو منطوری دی تھی ۔







