یمنی حوٹیوں کی طرف سے ایک بار پھر اسرائیلی جہازوں کو بحیرہ احمر میں ہدف بنانے کا اعلان سامئے آگیا ہے۔ یہ فیصلہ جنگ بندی کے باوجود غزہ می اسرائیلی فوج کی طرف انسانی امداد اور خوراک کی ترسیل روک دینے کے باعث کیا گیا ہے۔
یمنی حوثیوں نے اس سے قبل نومبر 2023 سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیلی بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ تاہم 19 جنوری سے نافذ آلعمل سے یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا تھا۔
یاد رہے حوٹیوں نے اعلان کر رکھا تھا ان کے حملے اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملوں کا ردعمل ہیں اس لیے جیسے ہی اعلان جنگ بندی ہو گیا حوثی بھی اپنے حملے روک دیں گے۔ لیکن منگل کے روز حوثیوں نے پھر سے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔حوثیوں کا یہ اعلان اس ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی کھول کر فلسطینیوں کے لیے بلا روک ٹوک ترسیل امداد کے مطالبے پر عمل کے لیے دے رکھی تھی۔
یہ ڈیڈ لائن چار روز قبل جمعہ کے روز حوثیوں کی طرف سے دی گئی تھی کو منگل کے روز پوری ہوگئی مگر اسرائیل نے غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف ادارے اس وجہ سے غزہ میں قحط کے حالات بن سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے خوراک ادویات، ایندھن حتی کہ بجلی بھی بند کررکھی ہے۔
یمنی حوثیوں کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کے تمام جہازوں کے سمندروں سے گذرنے ہوئے روکا جائے گا اور ان کی ناکہ بندی کے لیے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف اسرائیلی جہازوں کو یہ ناکہ بندی بحیرہ احمر باب المندب اور بحیرہ عرب میں برداشت کرنا پڑے گی۔اس سے قبل اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے دوران حوثیوں نے ایک سو سے زائد جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان میں اسرائیلی جہازوں کے علاہ امریکہ،برطانیہ ، سمیت ان تمام ملکوں کے جہاز بھی شامل تھے جو اسرائیلی جنگ میں ہر طرح سے اسرائیل کی مدد کر رہے تھے۔