ایسے وقت میں جب اسرائیلی حکومت ہزاروں اضافی فوجیوں کی بھرتی کی منظوری دی ہے …. اسرائیلی اعلیٰ فوجی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ شہر کے مرکز میں افواج کا داخلہ اکتوبر میں شروع ہو گا۔اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آئندہ دو ماہ کسی ممکنہ معاہدے اور فوج کو غزہ پر یلغار کے لیے تیار کرنے کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ یہ بات "ویلا” ویب سائٹ نے بتائی۔ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی علاقے پر مکمل کنٹرول کی منصوبہ بندی کو ایک "کارڈ” کے طور پر استعمال کرنے پر غور ہوا ہے جو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچا سکتا ہےذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اکتوبر میں غزہ کے باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیلنے کا عمل شروع ہو جائے گا … جس سے معاہدے کے مسودے کے لیے وقت ملے گا … اور ساتھ ہی فوج کی تیاری میں اضافہ ہو گا تاکہ سخت لڑائی کی جا سکے۔یہ امکان ہے کہ کنٹرول پلان کو قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اسرائیلی سیکیورٹی و پالیسی کابینہ کے فیصلے کے مطابق غزہ کے شہریوں کی نقل مکانی سات اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔
جنگ کے خلاف سیکڑوں ہزار شہری سڑکوں پر دوسری جانب جنگ میں توسیع کے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کو تل ابیب میں احتجاج کیا … اور جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تبادلہ ممکن ہو سکے۔مظاہرین نے بینر اور قیدیوں کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں جو اب بھی غزہ میں قید ہیں۔ انھوں نے حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔صحافیوں نے مظاہرین کی تعداد کئی ہزار بتائی جبکہ قیدیوں کے اہل خانہ کے فورم نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ افراد اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، لیکن شرکا کی تعداد پہلے کے حکومت مخالف جنگی مظاہروں سے کہیں زیادہ تھیذرائع نے اسرائیلی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ منصوبے کے تحت غزہ شہر کو گھیر کر تقریباً دس لاکھ افراد کو نئے قائم ہونے والے داخلی علاقوں میں منتقل کیا جائے گا اور کھانے کی تقسیم کے لیے 12 اضافی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ کی مکمل قبضہ گیری کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ فی الحال وہ تقریباً 75 فی صد علاقے پر قابض ہیں۔







