اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلوس میں تاریخی مسجد کو جزوی طور پر آگ لگا کر شہید کر دیا ہے۔ اس واقعے کی فلسطینی حکام نے سخت مذمت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مسجد کو نذرآتش کرنے کا اسرائیل کی فوج کی طرف سے یہ قابل مذمت حملہ جمعہ کےروز کیا گیا تھا ۔ اسرائیلی فوج کے بقول اس نے نابلوس کے اس علاقے میں فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘ کی تیارہ کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مسجد نذر آتش کر کے جزوی طور پر تباہ کر دی گئی۔ مسجد کو مسلمان بعد ازاں دیکھنے گئے ہیں۔ جہاں اس قدیمی النصر مسجد کو پہنچنے والے غیر معمولی نقصان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے قدیمی النصر مسجد نابلوس کے قدیمی شہر کا حصہ ہے، بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس تاریخی مسجد پر حملہ صبح دو بجے سے ساڑھے چھ بجے تک جاری رکھا ۔ تاہم اس بارے میں اسرائیلی فوج کا موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو اسرائیلی فوج نے کسی بھی فوری تبصرے سے انکار کر دیا۔نابلوس کے مقامی مذہبی عہدے داروں کے مطابق اس شہر میں اسرائیلی فوج اب تک چھ مساجد کو نشانہ بنا چکی ہے۔ مغربی کنارے میں قائم وزارت مذہبی امور و اوقاف نے نابلوس کی اس النصر مسجد کو فوجی حملے میں پہنچنے والے نقصان کے حجم اور شدت و وقت کی سنگینی کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔نابلوس میں محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر ناصر السلمان نے مسجد پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا’ اسرائیل پوری شدت کے ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات اور مساجد کو نشانہ بنا رہا ہے۔’
میونسپلٹی کے میئر حسام شخشیر نے کہا مسجد پر حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے آگ بھجانے والے عملے کو بھی موقع پر پہنچنے سے روکا۔ تاکہ مسجد کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچ سکے۔خیال رہے مغربی کنارے میں کئی دہائیوں بعد اسرائیلی فوج نے ٹینکوں کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔