تاثرات:محمد عالم
(معروف مفکرو دانشور ڈاکٹر منظور عالم کے سانحہ ارتحال کے پس منظر میں ان کے کارہائے نمایاں پر مختلف زاویوں تجزیہ کیا جارہا ہے ،اس موقع پر ان کے ہونہار فرزند اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے اہم ذمہ دار مسٹر محمد عالم نے مختصر مگر جامع تاثراتی مضمون لکھا ہے ـ جس میں صبرو عزیمت کے ساتھ ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کیا ہے ،ملاحظہ کریں )
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے (آل عمران: 185)
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے بانی سرپرست، آل انڈیا ملّی کونسل کے بانی اور جنرل سکریٹری، ممتاز مفکر، دانشور، مخلص داعی اور ملت کے سچے دردمند رہنما ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کا انتقال ایک عظیم علمی و فکری خسارہ ہے۔ یہ محض ایک شخصیت کی رحلت نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد ساز انسان کا دنیا سے رخصت ہونا ہے جس نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی روشنی میں فکرِ اسلامی کی تشکیل، علمی تحقیق کے فروغ اور ملت کی فکری رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔
ڈاکٹر صاحبؒ اُن اہلِ علم میں سے تھے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے:
«إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ…» (مسلم)
اس حدیث پاک میں اولاد صالح کے بعد صدقۂ جاریہ اور علمِ نافع کا تذکرہ کیا گیا ہے. ہمارے والد محترم ڈاکٹر محمد منظور عالم کا کام ان دونوں چیزوں کا روشن و زندہ نمونہ ہے، جو ان شاء اللہ قیامت تک ڈاکٹر صاحبؒ کے لیے جاری ثواب کا سبب بنا رہے گا۔
ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف کسی بھی حال میں مایوس نہ ہونا تھا۔ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، وسائل کی کمی ہو یا راستوں میں رکاوٹیں، ان کے لہجے، فکر اور عمل میں کبھی یاس کی جھلک نظر نہیں آئی۔ وہ قرآن کی اس ابدی صدا پر کامل یقین رکھتے تھے:
لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ.
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو.(الزمر: 53)
ان کا کہنا تھا کہ مایوسی دراصل مقصد سے پیچھے ہٹنے کا پہلا قدم ہے، جبکہ امید وہ قوت ہے جو افراد کو بھی زندہ رکھتی ہے اور قوموں کو بھی۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت—چاہے طائف کے زخم ہوں یا ہجرت کے نازک لمحات— ان کے لیے اس بات کی سب سے بڑی دلیل تھی کہ اہلِ ایمان کبھی حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے۔ اسی لیے وہ اکثر اس حدیث کی طرف توجہ دلاتے تھے:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ… إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ» (مسلم)
ڈاکٹر صاحبؒ کا پیغام نہایت واضح اور عملی تھا:اگر حالات سازگار نہ ہوں تو صبر اختیار کرو، اگر راستے بند ہوں تو تدبیر بدلو لیکن امید، مقصد اور جدوجہد کو کبھی ترک نہ کرو۔
آج ان کی رحلت کے بعد ان کے ساتھ سب سے بڑی وفاداری یہی ہے کہ ہم ان کے مشن کو محض یادوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ عمل، تحقیق اور کردار کے ذریعے آگے بڑھائیں۔ اُن کی جدائی کا غم یقیناً ہم سب کے لیے بہت سخت ہے، لیکن یہ مشن اب ایک امانت ہے—خصوصاً ان کے اہلِ خانہ، رفقائے کار اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز یا آل انڈیا ملّی کونسل سے وابستہ تمام افراد کے لیے۔
قرآن ہمیں اسی راستے پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دیتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ.
کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے. (آل عمران: 139)اوروَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ.اور کہہ دیجیے کہ عمل کرو، اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا. (التوبہ: 105)
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے قائم کردہ اداروں کو قیامت تک علم، حق اور ہدایت کا سرچشمہ بنائے اور ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم کسی بھی حال میں مایوس نہ ہوں اور ان کے مشن اور وژن کو اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں۔ آمین











