امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ اگر حماس نے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ان کی درخواست پر مشرقِ وسطیٰ اور آس پاس کے اتحادی ممالک بھرپور طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے تیار ہیں۔
اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں امریکی صدر نے دعوی کیا کہ مشرق وسطیٰ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود امریکہ کے اتحادیوں نے واضح طور پر انھیں مطلع کیا ہے کہ اگر حماس معاہدے نے خلاف ورزی کی تو وہ میری درخواست پر بھرپور طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہونے اور ’حماس کو سیدھا کرنے‘ کے موقع کا خیرمقدم کریں گے۔
میں نے ان ممالک اور اسرائیل کو کہا ہے کہ ابھی نہیں۔ ابھی بھی امید ہے کہ حماس وہ کرے گی جو صحیح ہے۔‘ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے ایسا نہ کیا تو اس کا ’خاتمہ تیز، خطرناک اور بہیمانہ ہوگا۔‘ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام ممالک کے شکر گزار ہیں جنھوں نے مدد کی پیشکش کی ہے۔
اسی کے ساتھ ٹرمپ نے پھر اس دعوے کو دوہرایا کہ انھوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہ کریں۔
منگل کے روز دیوالی کے موقع پر اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی کچھ دیر قبل ہی انڈیا کے وزیرِ اعظم سے بات ہوئی ہے۔’بہت اچھی بات چیت ہوئی، ہم نے تجارت کے بارے میں بات کی۔۔۔ وہ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم پہلے بات کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔’کیونکہ تجارت کا معاملہ شامل تھا اس لیے میں اس بارے میں بات کر سکا۔ اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے۔ یہ بہت ہی اچھی چیز ہے۔‘
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ رکوانے کا متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیںامریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کو کہا تھا کہ اگر انھوں نے جنگ نہ روکی تو وہ ان کے ساتھ تجارت بند کر دیں گے جس کے بعد دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہوئے۔
انڈیا امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کرتا آیا ہے۔








