نئی دہلی ,11 مارچ: جمعیۃ علماء ہند کے۔ صوبہ دہلی کے ایک وفد نے ناظمِ اعلیٰ مفتی عبدالرازق مظاہری کی سربراہی میں دہلی پولیس کے ضلع دوارکا ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سے ملاقات کی اور جنوب مغربی دہلی کے علاقہ اتم نگر میں پیش آئے حالیہ افسوسناک حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وفد نے اس حادثے کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی، خوف و ہراس اور بعض شرپسند و فرقہ پرست عناصر کی جانب سے کی جانے والیس اشتعال انگیزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وفد نے ڈی سی پی کو بتایا کہ اتم نگر میں پیش آئے واقعہ کے بعد علاقے کے عام شہریوں خصوصاً مقامی باشندوں میں عدم تحفظ اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا اندیشہ لاحق ہے کہ کہیں حالات مزید خراب نہ ہو جائیں۔ جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے زور دے کر کہا کہ پولیس انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کو ہر حال میں برقرار رکھے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو ماحول کو خراب کرنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء کے وفد نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ کسی ایک مذہب یا کمیونٹی تک محدود نہیں ہے۔ مختلف علاقوں میں مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگ اس طرح کے معاملات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر کہیں کارروائی کی جائے تو وہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں، غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ کسی ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا کر کارروائی کرنا نہ صرفہے انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے معاشرے میں مزید بے چینی اور بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔
وفد نے اس بات پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا کہ بعض مقامات پر کسی ایک ملزم یا مشتبہ شخص کے جرم کی بنیاد پر اس کے رشتہ داروں یا خاندان کے دیگر افراد کے مکانات کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے یا ایسیعلاقے کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے واضح کیا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آئین اور قانون کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ جرم اگر کسی فرد نے کیا ہے تو اس کی سزا بھی اسی فرد تک محدود رہنی چاہیے، نہ کہ اس کے اہلِ خانہ یا رشتہ داروں کو اس کا نشانہ بنایا جائے۔
وفد نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بعض علاقوں میں بلڈوزر کے ذریعے مکانات گرانے کی کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جو کہ تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کا مکمل احترام کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کارروائی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انجام دی جائے تاکہ قانون کی بالادستی برقرار رہ سکے۔
اس موقع پر وفد نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ بعض فرقہ پرست عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے رمضان المبارک اور آنے والی عید الفطر کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو نہایت قابلِ مذمت اور تشویشناک ہیں۔ جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کو بروقت روکا جا سکے۔
وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر مساجد، عبادت گاہوں اور حساس علاقوں میں مناسب سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ لوگ سکون، اطمینان اور مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض اور تہوار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں کے مواقع پر امن و امان کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں بروقت اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
ڈی سی پی نے وفد کو یقین دلایا کہ دہلی پولیس پورے معاملے کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہی ہے آور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی اولین ترجیح علاقے میں امن قائم رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفد میں مفتی عبدالرازق مظاہری (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی) کے علاوہ قاری دلشاد احمد مظاہری (نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی)، قاری محمد ساجد فیضی (سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی)، قاری اسرارالحق قاسمی (کنوینر اصلاح معاشرہ کمیٹی صوبہ دہلی)، ڈاکٹر رضاؤالدین شمس (رکن جمعیۃ علماء صوبہ دہلی)، مولانا جمیل احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع جنوب مغربی دہلی) محمد رفیع عطا۔فیروز احمد سولنکی۔انور غوری شامل تھے ہریس ریلیز







