اترپردیش کے سنبھل ضلع سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے ایک بار پھر وندے ماترم کو لے کر بیان دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ وندے ماترم نہیں گاتے کیونکہ اس کے کچھ الفاظ ان کے مذہب کے خلاف ہیں۔ ان کے دادا سابق ایم پی ڈاکٹر شفیق الرحمن برق نے بھی ہمیشہ اس گانے کی مخالفت کی تھی۔
ہفتہ کو ایم پی برق نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "جن گن من ہمارا قومی ترانہ ہے، جس کا میں پوری طرح احترام کرتا ہوں اور گاتا ہوں،” لیکن "وندے ماترم ہمارا قومی گیت ہے، جسے گانے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے کچھ الفاظ اسلامی عقیدے کے خلاف ہیں۔” برق نے کہا کہ ان کا مذہب صرف ایک اللہ کی عبادت کی اجازت دیتا ہے، اس لیے وہ کسی اور جگہ سجدہ نہیں کر سکتے۔
مجھے اس ملک کی مٹی سے پیار
انہوں نے کہا کہ میں اس ملک کی مٹی سے پیار کرتا ہوں اور اس کا وفادار ہوں لیکن میں اس کی پوجا نہیں کر سکتا یہ میرا مذہبی اور آئینی حق ہے۔ ایم پی نے کہا کہ وہ قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے ہمیشہ وفادار رہے ہیں اور رہیں گے کیونکہ اس میں ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے الفاظ نہیں ہیں۔
یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔
برق نے مزید کہا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں، آئین اور سپریم کورٹ بھی یہی موقف رکھتے ہیں۔ کیرالہ میں 1986 کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی کو قومی گیت گانے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حب الوطنی کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اسے گانا ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ایم پی کے دادا ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ہونے پر ’وندے ماترم‘ گانے کے دوران پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔ مایاوتی اس وقت ریاست کی وزیر اعلیٰ تھیں۔ اس اقدام نے سیاسی حلقوں میں کافی ہنگامہ اور تنازعہ کھڑا کر دیاتھا۔








