🔹کلکٹر کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔
🔹وقف کرنے کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کو ہٹا دیا گیا ہے۔
🔹اسٹیٹ وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل میں غیر مسلمین کی شرکت کو محدود کر دیا گیا ہے
🔹آثار قدیمہ کے زیر نگرانی مساجد میں بھی کچھ راحت دی ہے
🔹امید پورٹل میں میعاد بڑھا دی گئی ہے۔
🔹وقف بائی یوزر پر بھی کچھ راحت دی ہے مگر اتنی نہیں جس کی توقع تھی جو فیصلے میں آئے گی
🔹اکثر معاملات میں مسلمانوں کو راحت ملی ہے۔
ابھی مزید تفصیلات آئیں گی قارئین کی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے
نئی دہلی (آر کے بیورو/ایجنسی))
ملک کی سپریم کورٹ نے وقف قانون سے متعلق معاملے پر پیر کو بڑا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے وقف قانون کے معاملے میں حکومت اور مسلم کمیونٹی کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے وقف قانون کی دفعہ 3 اور سیکشن 4 پر پابندی لگا دی ہے۔ سماعت کے بعد عدالت نے کہا کہ ہمیں پورے قانون پر پابندی لگانے کا حق نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون کی آئینی حیثیت پر نہیں ہے۔ عدالت نے وقف املاک پر محصول سے متعلق قانون پر روک لگا دی ہے۔ نیز وقف بورڈ کے 11 ارکان میں تین سے زیادہ غیر مسلم ارکان نہیں ہونے چاہئیں اور وقف بورڈ کا سی ای او جہاں تک ممکن ہو مسلم کمیونٹی سے ہونا چاہئے، لیکن کسی غیر مسلم کو سی ای او مقرر کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے دفعہ 3(R)، 2(C)، 3(C) اور 23 پر روک لگانے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح عدالت نے کچھ معاملات میں مسلمانوں کو اور کچھ معاملات میں حکومت کو راحت دی۔ ایسے میں آئیے یہ سمجھیں کہ مسلمانوں کو وقف ایکٹ پر کیا اعتراض تھا اور انہیں کیا راحت ملی؟
دفعہ 3(ر): یہ شرط ہے کہ کوئی شخص وقف کرنے کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہو۔ عدالت نے کہا کہ یہ شرط صوابدیدی ہو سکتی ہے اور قوانین بنائے جانے تک معطل رہے گی۔ عدالت نے وقف بنانے کی پانچ سال کی حد پر روک لگا دی ہے۔
••وقف قانون کی ان دفعات پر روک
سیکشن 2(c) کی فراہمی: جب تک نامزد افسر کی رپورٹ درج نہیں کی جاتی اس وقت تک جائیداد کو وقف املاک نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ عدالت نے اس شق کو روک دیا ہے۔
سیکشن 3(c): کلکٹر کو جائیداد کے حقوق کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا اختیارات کی علیحدگی کی خلاف ورزی ہے۔ حتمی فیصلے تک جائیداد کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے اور وقف کو قبضے سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
••غیر مسلم ممبران کی حد: وقف بورڈ میں 3 سے زیادہ غیر مسلم ممبر نہیں ہوں گے اور کل تعداد 4 سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ سیکشن 23 کے تحت سپریم کورٹ نے کہا کہ وقف بورڈ کا سی ای او جہاں تک ممکن ہو مسلمان ہونا چاہیے۔
••وقف بائی یوزر پر پر کوئی ریلیف نہیں
وقف اراضی سے متعلق پرانے قانون میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی زمین وقف کے ذریعہ طویل عرصے سے استعمال کی جارہی ہے تو اسے وقف سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر ضروری دستاویزات دستیاب نہ ہوں تب بھی وہ زمین وقف سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اب جب نیا قانون آیا ہے تو اس سے یہ لفظ ہٹا دیا گیا ہے۔
اگر کوئی جائیداد وقف نہ ہو تو اسے مشتبہ سمجھا جائے گا۔ یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ چونکہ اس جائیداد پر وقف پہلے سے کام کر رہا تھا، اس لیے اب بھی ان کا اس پر حق رہے گا۔ مسلم کمیونٹی ‘استعمال کے ذریعہ وقف’ کو برقرار رکھنے کے حق میں تھی، جس کے لیے وہ وقف ایکٹ پر پابندی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ عدالت نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اگر کسی وقف جائیداد کے پاس دستاویزات نہیں ہیں تو اسے وقف جائیداد نہیں سمجھا جائے گا۔
وقف کے ڈھانچے پر مسلم فریق کو راحت
مسلم کمیونٹی کا دوسرا سب سے بڑا اعتراض ریاستی وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل کے ڈھانچے سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں نے استدلال کیا کہ سابق عہدیداروں کے علاوہ صرف مسلمانوں کو ان اداروں کا انتظام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ مسلمانوں نے کہا کہ وقف بورڈ اور کونسل میں صرف مسلم ارکان ہونے چاہئیں۔
مسلم کمیونٹی کے اس اعتراض پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وقف کونسل اور وقف بورڈ میں 4 سے زیادہ غیر مسلم ممبر نہیں ہوں گے اور ریاست کے لیے 3 سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح وقف بورڈ کے 11 ارکان میں سے مرکزی ادارے میں چار اور ریاست میں تین سے زیادہ غیر مسلم نہیں ہونے چاہئیں۔ اس طرح وقف بورڈ کے ڈھانچے میں مسلم کمیونٹی کی اکثریت ہوگی۔ نئے قانون میں غیر مسلم ارکان کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا تھا تاہم عدالت نے اس کا تعین کر دیا ہے۔
پانچ سال کے مسلمان کی شرط ختم
سپریم کورٹ کے سی جے آئی نے کہا کہ ہم وقف کرنے کے لیے کم از کم اسلامی عمل یعنی اسلام پر عقیدہ 5 سال کی شرط پر پابندی لگا رہے ہیں۔ حکومت چاہتی تھی کہ اگر کوئی مسلمان وقف کرتا ہے تو وہ پانچ سال تک باعمل مسلمان رہے۔اب سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مسلم کمیونٹی کو راحت دی ہے
مسلمانوں کو وقف ایکٹ میں کلکٹر کی تحقیقات پر اعتراض تھا۔ وقف ایکٹ میں ایک پروویژن تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کلکٹر اس بات کی جانچ کرتا ہے کہ آیا کوئی جائیداد سرکاری زمین ہے یا نہیں تو تحقیقات کے دوران ایسی جائیداد کو وقف املاک نہیں مانا جائے گا۔ اگر کلکٹر کو شک ہے کہ کوئی بھی زمین سرکاری زمین ہے تو تحقیقات ہونے تک اسے وقف زمین نہیں مانا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اس پر پابندی لگا دی ہے
فیصلے کو ان پوائینٹس میں سمجھا جاسکتا ہے








