نئی دہلی:(آر کے بیورو )
ہندو کا مطلب کیا ہے ،ہندو راشٹر کیا ہے اس کو لے کر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور مختلف نظریات کے لوگ اس معاملے پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔سنگھ ان لفظوں کو کن معنوں میں لیتا ہے یہ جاننا ضروری ہے ـ آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے پر دہلی میں منعقد ایک لیکچر سیریز میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہندو اور ہندو راشٹر کی تشریح کی حالانکہ یہ کوئی انکشاف نہیں تھا سنگھ اس پر شرماتا بھی نہیں ہے لیکن بھاگوت نے مہارت کے ساتھ لفظوں کے نئے سانچے میں ڈھال کر اس کا جو خاکہ و مطلب بیان کیا وہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ بھاگوت نے ہندو، ہندو راشٹر کے بارے میں گزشتہ تین دنوں میں جو کچھ کہا اس کو دس نکات میں سمجھتے ہیں ۔
1ـ ہندو کون ہے؟ وہ جو اپنے راستے پر چلنے میں یقین رکھتا ہے اور مختلف عقائد کے لوگوں کا احترام کرتا ہے وہ ہندو ہے۔ ہمارا فطری مذہب ہم آہنگی کا ہے، تصادم کا نہیں۔
2ـ گزشتہ 40 ہزار سال سے ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔ مل جل کر رہنا ہمارا کلچر ہے۔ ہم اتحاد کے لیے یکسانیت کو ضروری نہیں سمجھتے۔ تنوع میں اتحاد ہے۔ تنوع اتحاد کا نتیجہ ہے۔
3 ـ جب ہم ہندو راشٹر کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کو چھوڑ رہے ہیں۔ ہندو راشٹر کا مطلب کسی کی مخالفت نہیں ہے۔ سنگھ کسی کی مخالفت میں نہیں آیا ہے، کسی کے ردعمل میں نہیں آیا ہے۔
4 ـ ہندو راشٹر کا اقتدار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہندو راشٹر کے عروج کے دوران جو حکومت اقتدار میں رہی ہے وہ کوئی مذہب یا فرقہ ماننے والی حکومت نہیں ہے۔ سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ مذہب، فرقہ، زبان کا کوئی فرق نہیں۔ سب کے لیے سب برابر ہے۔
5ـ بھاگوت نے جغرافیہ اور روایات کے وسیع فریم ورک میں ہندوؤں کی تعریف کی اور کہا کہ کچھ لوگ جانتے ہیں لیکن خود کو ہندو نہیں مانتے، جبکہ کچھ دوسرے نہیں جانتے۔
6ـ قدیم زمانے سے، ہندوستانیوں نے کبھی بھی لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کی، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہر کوئی اور دنیا ایک ہی الوہیت کے پابند ہیں۔ لفظ "ہندو” ہندوستانیوں کے لیے باہر کے لوگ استعمال کرتے تھے۔ ہم نے کبھی انسانوں میں تفریق نہیں کی۔
7 ـ انہوں نے کہا کہ ہندو اپنے راستے پر چلنے اور دوسروں کا احترام کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور وہ کسی بھی مسئلہ پر لڑائی میں نہیں بلکہ ہم آہنگی میں یقین رکھتے ہیں۔
8 ـ ہمارے ملک میں بہت سے مذاہب تھے لیکن فطرت سب کو قبول کر رہی تھی۔ ایسے عقیدے رکھنے والوں کو ہندو کہا جاتا تھا۔ دوسروں کے عقیدے کا بھی احترام کرو، اس کی توہین نہ کرو۔ سب ایک ہی مٹی سے بنے ہیں، ہم مل جل کر رہ سکتے ہیں، کیوں بلا ضرورت لڑتے ہو؟
9 ـ گزشتہ 40 ہزار سال سے ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔ ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہماری ثقافت ہے۔ ہم اتحاد کے لیے یکسانیت کو ضروری نہیں سمجھتے۔ تنوع میں بھی اتحاد ہے۔ تنوع اتحاد کا نتیجہ ہے۔
10 ـ ہندوستان آزادی کے 75 سال میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ آر ایس ایس کا مقصد ملک کو وشو گرو بنانا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان دنیا میں اپنا حصہ ڈالے۔









