اردو
हिन्दी
اپریل 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغان پرچم پر طالبان کی مذہبی سیاست

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
افغان پرچم پر طالبان کی مذہبی سیاست
216
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کابل (ڈی ڈبلیو)

دوعشروں قبل اقتدار سے محروم ہونے والے طالبان نے ایک مرتبہ پھر کابل پر قبضے کے بعد افغانستان بھر میں اپنی حاکمیت کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کی ٹھان رکھی ہے، اس میں افغانستان کے قومی پرچم کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔

دو ہفتے قبل افغان دارالحکومت پر قبضہ کرنے والے کٹر سنی نظریات کے حامل انتہا پسند گروہ طالبان نے تمام سرکاری عمارتوں پر لہراتے تین رنگوں والے افغان پرچم کو اتار کر اپنا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اب پارلیمان کی عمارت کے ساتھ ساتھ تمام پولیس اسٹیشنوں، فوجی تنصیبات اور دیگر حکومتی بلڈنگز پر ان جنگجوؤں کا سفید رنگ والا پرچم دیکھا جا سکتا ہے۔

ترنگا لہرانے والوں کے خلاف طالبان کا تشدد

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ جنگجو ایسے لوگوں کی سرزنش کر رہے ہیں، جو طالبان کے خلاف مزاحمت دیکھانے کی خاطر افغانستان کا ترنگا لہرا رہے ہیں۔ کچھ واقعات میں طالبان جنگجوؤں نے ایسے افراد پر تشدد بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایسی متعدد ویڈیو ہیں، جن میں یہ سب دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم طالبان نے باقاعدہ طور پر افغانستان کا پرچم تبدیل کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے ملک میں اسلامی نظام رائج کرنے کی کوششوں میں ‘اسلامی امارات افغانستان‘ کا سفید جھنڈا ان کی مدد کر سکتا ہے کیونکہ اس پر تحریر کردہ کلمہ مسلمانوں کو نفیساتی طور پر ان کی طرف مائل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ ناقدین کے مطابق طالبان دراصل اپنی حاکمیت کو جائز قرار دینے کی خاطر پرچم پر مذہبی سیاست کر رہے ہیں۔

کابل کی سڑکوں پر طالبان کے اس علامتی پرچم کی فروخت کا عمل جاری ہے۔ کابل یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والے احمد شکیب بھی انہی افراد میں شامل ہیں، جو دارالحکومت میں ‘اسلامی امارات افغانستان‘ کا پرچم فروخت کر رہے ہیں۔ طالبان نے سن انیس سو چھیانوے میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے ایک برس بعد ستائیس اکتوبر کو یہ جھنڈا متعارف کرایا تھا، جو ان کے تقریبا پانچ سالہ دور میں اس وسطی ایشیائی ملک کا سرکاری جھنڈا قرار پایا تھا۔

احمد شکیب نے بتایا، ”ہمارا مقصد ہے کہ افغانستان کے تین رنگوں والے پرچم کے بجائے اسلامی امارات افغانستان کے جھنڈے کو ملک بھر میں پھیلا دیا جائے۔‘‘ یہ البتہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس اسٹوڈنٹ کا طالبان کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق ہے یا یہ صرف نظریاتی سطح پر ایسا کر رہا ہے۔

افغان قومی پرچم مزاحمت کی علامت بن گیا


طالبان کی طرف سے ملک کا پرچم بدلنے کی کوشش ایسے افراد کے لیے پریشانی کا باعث ہے، جو طالبان مخالف ہیں اور جمہوری طرز حکومت پر یقین رکھتے ہیں۔ افغانستان کا تین رنگوں کا پرچم لہرانا ان افراد کے لیے مزاحمت کی ایک علامت بن چکا ہے۔ بالخصوص کابل میں طالبان کے قبضے کے خلاف احتجاج کرنے والے ان جنگجوؤں کی طرف سے پرتشدد حملوں کے خطرات کے باوجود اسی پرچم کو بلند کیے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں کے دوران ملک بھر میں کئی ایسے چھوٹے چھوٹے احتجاج منعقد کیے گئے، جن میں مظاہرین نے افغانستان کا ترنگا پرچم تھاما ہوا تھا۔ اسی طرح سوشل میڈیا میں بھی افغانستان کے سرکاری پرچم کی تصاویر اور ایموجیز شیئر کی جا رہی ہیں۔ عام شہریوں کے علاوہ معزول حکومتی عہدیداروں اور کچھ کھلاڑیوں نے بھی قومی پرچم سے اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے افغانستان کے یوم آزادی کے دن بھی کابل اور کئی دیگر شہروں میں افغان عوام نے طالبان کے خلاف بطور مزاحمت اسی قومی پرچم کو ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق جلال آباد میں بائیس اگست کو ایک ایسے احتجاج میں شامل شرکاء کو منشتر کرنے کی خاطر فائرنگ بھی کی، جنہوں نے مزاحمت کے طور پر قومی پرچم لہرا رہے تھے۔

جلال آباد کے ایک رہائشی نے کہا، ”میرا دل اس پرچم سے جڑا ہوا ہے، میں اس جھنڈے کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ مجھے مار دو، فائرنگ کرو لیکن میں اس پرچم کو نہیں بھولوں گا‘‘۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026

حالیہ خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN