بھارت میں آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس دوران کانگریس رہنما راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک سخت بیان دیا، جس پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
حالیہ جلسوں اور عوامی تقاریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے، جبکہ اپوزیشن صرف منفی سیاست کر رہی ہے – دوسری جانب راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے اور حکومت ان پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کے مختلف ریاستی نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مرکز سے ایک مخصوص نظریہ مسلط کیا جا رہا ہے- کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر تمل ناڈو کو دہلی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے-راہل گاندھی نے کہا کہ مرکز ریاستی خودمختاری کو کمزور کر رہا ہے اور تمل ناڈو جیسے ریاستوں پر براہ راست اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو وفاقی نظام کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ بھارت ایک “ریاستوں کا اتحاد” ہے، جسے ایک مرکزی طاقت کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
اسی دوران ایک اور معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیان نے بھی تنازع کھڑا کر دیا، جب ان کے ایک متنازعہ ریمارک پر بی جے پی نے شدید ردعمل دیا اور الیکشن کمیشن سے شکایت تک درج کرا دی۔
اسی طرح دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ حکمران جماعت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ انتخابی عمل شفاف اور پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔









